عالمی منڈی میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے براہِ راست مذاکرات نہ کرنے کا اعلان ہے
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 50 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے بعد 73.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 63 سینٹ یا 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ 70.13 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تیل کی عالمی قیمتوں پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے اگرچہ حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی تھی تاہم ایران کے تازہ موقف نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں پر فوری اثر دیکھا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے جہاں اعلیٰ سطحی مذاکرات متوقع تھے تاہم ایران اور میزبان ملک قطر نے واضح کیا کہ امریکی وفد کی ایرانی حکام سے کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوگی بلکہ تمام رابطے ثالثوں کے ذریعے کیے جائیں گے۔
اس دوران قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکی وفد سے ملاقات کی جس میں خطے کی مجموعی صورتحال ایران امریکا تنازع اور توانائی کی عالمی منڈی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نسبتی کمی اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ معمول کے مطابق کھل جانے سے تیل کی رسد میں رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔