امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے، غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد جاری

امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے، غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد جاری

غزہ میں جاری جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کے پہلے مرحلے کے تحت امریکا کے تقریباً 200 فوجی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فوجی براہِ راست غزہ میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ وہ مصر، قطر اور ترکیہ کی افواج کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی نگرانی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ امن منصوبہ، 8 مسلم ممالک کا حماس کے مثبت ردعمل کا خیرمقدم

غزہ میں امریکی فوجی موجود نہیں ہوں گے: سینٹ کام

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے غزہ کا دورہ کیا اور واضح کیا کہ امریکی فوجی غزہ کی حدود میں تعینات نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول، ’اس دورے کا مقصد صرف یہ جاننا تھا کہ سینٹ کام کی زیر قیادت سول-ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر کیسے قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی کے بعد کے انسانی امدادی اور تعمیر نو کے مراحل کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے‘۔

اسرائیلی فوج کی پسپائی، امریکی نمائندے کا دورہ

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے امن معاہدے کی شرائط کے مطابق غزہ کی کچھ مخصوص حدود سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ اس پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ، اسٹیو وٹکوف نے غزہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی فوج کے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ فریقین جنگ بندی کی شرائط پر سنجیدگی سے عمل کر رہے ہیں‘۔

علاقائی تعاون اور نگرانی

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجیوں کا کام غزہ میں انسانی امداد کے سلسلے میں مصر، قطر اور ترکیہ کے فوجی دستوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بندی اور معلومات کا تبادلہ ہوگا۔ ان ممالک کی افواج پہلے سے ہی علاقے میں محدود پیمانے پر موجود ہیں تاکہ امن معاہدے کے تحت تعمیر نو اور انسانی امداد کو ممکن بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں:غزہ میں 2 سال بعد امن کی اُمید، حماس نے ٹرمپ امن منصوبے کے جزوی نکات قبول کر لیے، امریکی صدر کی اسرائیل کو فوری حملے روکنے کی ہدایت

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب غزہ میں طویل عرصے سے جاری اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں کے بعد عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے شدید دباؤ تھا۔ مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت جنگ بندی کے متعدد مراحل پر عملدرآمد ہونا ہے، جن میں سے پہلا مرحلہ اسرائیلی انخلا اور بین الاقوامی مشاہدہ کاری ہے۔

غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کا داخلی معاملہ، غیر ملکی سرپرستی قبول نہیں، حماس

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ  غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کا داخلی معاملہ ہے  اور  اس حوالے غیر ملکی سرپرستی قبول نہیں ہے۔

عرب میڈیاکے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس، اسلامی جہاد اور پاپولرفرنٹ کا کہناہے غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کا داخلی معاملہ ہے، کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

غزہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹنے لگے ہیں اور امدادی ٹرک بھی غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق غزہ کی سول ڈیفنس نے ملبے تلے دبی انسانی باقیات کی تلاش کا عمل بھی شروع کر دیا ہے اور جمعے سے اب تک 155 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ معاہدے کے تحت نئی حدود پر پوزیشنیں سنبھالنی شروع کر دی ہیں۔

اگلا مرحلہ

ماہرین کے مطابق، اگلے مرحلے میں اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کی شمولیت سے غزہ میں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی، پناہ گزینوں کی واپسی اور مستقل امن کے لیے سیاسی مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *