کیا امریکہ ایران میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا؟ اوباما کا بڑا دعوی

کیا امریکہ ایران میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا؟ اوباما کا بڑا دعوی

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے جوہری معاملے سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ ایک انٹرویو میں اوباما نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ایسا حل نکالا جس کے نتیجے میں کوئی میزائل فائر نہیں ہوا اور نہ ہی خطے میں بڑی جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی۔

سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایران سے بھاری مقدار میں افزودہ یورینیم نکلوایا گیا اور جوہری پروگرام پر مؤثر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ان کے مطابق اس پورے عمل میں انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی بندش جیسے خطرناک حالات پیدا ہوئے، جو عالمی معیشت کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتے تھے۔

  یہ بھی پڑھیں :ایران جلد 100 فیصد یورینیئم افزودگی اور جوہری ہتھیار بنانا بند کردے گا، ٹرمپ کا دعویٰ 

اوباما نے کہا کہ ایران کے معاملے کو اس وقت نسبتاً پرامن اور سفارتی طریقے سے حل کیا گیا، جبکہ موجودہ پالیسیوں کے نتائج اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دور میں اختیار کیے گئے سخت اقدامات اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ نے اس سے قبل باراک اوباما پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پالیسیوں نے ایران کو مزید مضبوط ہونے کا موقع دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اوباما دور میں ایران کو بھاری مالی وسائل اور نقد رقوم فراہم کی گئیں جس سے تہران کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

editor

Related Articles