وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حلف کا معاملہ، ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حلف کا معاملہ، ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حلف کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کو بدھ کو شام چار بجے تک نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لیں۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کی عدم دستیابی کی صورت میں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے مجاز ہونگے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے استعفی دے دیا تھا ، قانون کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جانا ہے اور قانون کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لانا ضروری ہے ۔

فیصلے کے مطابق قانون کے مطابق بغیر تاخیر سے نو منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لانا چاہے ، پشاور: گورنر خیبرپختونخوا اپنا آئینی زمہ داری پوری کرتے ہوئے حلف لے ، پشاور: بغیر کسی تاخیر سے یہ عمل مکمل کیا جائے ۔

قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف نہ لینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت میں دوران سماعت سخت سوالات و جوابات کا تبادلہ ہوا۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ گورنر خیبرپختونخوا آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے اور نو منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینے سے گریزاں ہیں۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اس وقت صوبہ کون چلا رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے استعفٰے پر اعتراض پر علی امین گنڈا پور کا ردِ عمل سامنے آ گیا

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 255 کے تحت کسی قسم کی منظوری ضروری نہیں، جبکہ گورنر کے وکیل عامر جاوید نے مؤقف اپنایا کہ گورنر علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ پر دستخط اور اس کی قانونی حیثیت کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں، اس لیے فیصلہ روکا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کل موجود ہوں گے اور نو منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لیں گے؟ جس پر عامر جاوید نے کہا کہ کل گورنر آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے جاری کیا گیا شیڈول کسی فورم پر چیلنج کیا گیا ہے؟ جس پر گورنر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کی وجہ سے شیڈول چیلنج نہیں کیا جا سکا۔

عامر جاوید نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 130 (7)، 48 اور دیگر دفعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ گورنر کا اختیار آئین میں واضح ہے۔

مزید پڑھیں:استعفیٰ کی تصدیق یا تردید، فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو 15 اکتوبر کو طلب کرلیا

دوران سماعت ایک موقع پر عدالت نے تجویز دی کہ اگر گورنر کراچی میں ہیں تو ان کے لیے ہیلی کاپٹر بھجوا دیا جائے تاکہ وہ شام تک واپس آ سکیں۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ ہیلی کاپٹر کا بندوبست کریں۔

پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے اسمبلی فلور پر استعفیٰ دینے کا اقرار کیا اور نو منتخب وزیر اعلیٰ کو مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین نے واضح اور سادہ الفاظ میں استعفیٰ دیا۔

عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جو آئندہ چند روز میں سنایا جائے گا۔ سیاسی و قانونی حلقے اس فیصلے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے خیبرپختونخوا میں آئینی بحران کی صورت حال واضح ہوگی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *