متحدہ عرب امارات نے دس سال کے مستقل رہائشی گولڈن ویزا منصوبے میں بڑی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اب غیر ملکی رہائشیوں کو وہ قونصلر سہولتیں بھی دی جائیں گی جو پہلے صرف اماراتی شہریوں کے لیے مخصوص تھیں۔
اماراتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق، اب 10 سالہ قابلِ تجدید گولڈن ویزا رکھنے والے افراد کو بیرونِ ملک ہنگامی حالات یا بحران کی صورت میں مدد فراہم کی جائے گی۔
یہ ویزا 10 سالہ خود کفیل رہائشی اجازت نامہ ہے جو ہولڈر کو بغیر کسی اسپانسر کے رہنے، کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے ، گولڈن ویزا ہولڈرز کو ملازمت یا قیام کے لیے کسی کمپنی یا شخص کی اسپانسرشپ درکار نہیں ہوتی، جس سے نوکری کی تبدیلی بھی آسان ہو جاتی ہے۔
عام ویزا کے برعکس، گولڈن ویزا ہولڈرز 6 ماہ سے زائد بیرونِ ملک رہنے کے باوجود اپنا ویزا برقرار رکھ سکتے ہیں ، اسی طرح ہولڈرز اپنے بیٹوں کو 25 سال کی عمر تک اسپانسر کر سکتے ہیں، جبکہ خصوصی ضروریات والے بچے کسی بھی عمر میں اسپانسر رہ سکتے ہیں۔
گولڈن ویزا ہولڈرز جتنے چاہیں گھریلو ملازمین اسپانسر کر سکتے ہیں۔
وہ افراد جو گولڈن ویزا کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں، انہیں 6 ماہ کا کثیر الداخلہ وزٹ ویزا دیا جاتا ہے تاکہ وہ دستاویزات مکمل کر سکیں ۔ علاوہ ازیں گولڈن ویزا ہولڈرز یو اے ای لیبر لاز کے تحت مخصوص پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں اور انہیں ملازمت کی تبدیلی میں زیادہ آزادی حاصل ہے۔
گولڈن ویزے کا مقصد بنیادی طور پر قابل، تخلیقی اور سرمایہ کار افراد کو یو اے ای میں طویل قیام کے مواقع فراہم کرنا ہے، جو ملک کے وژن 2030 کے اہداف سے مطابقت رکھتا ہے۔