اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ شمال مغربی ایران میں واقع خنداب ہیوی واٹر ری ایکٹر اسرائیلی حملے میں شدید متاثر ہوا ہے اور اس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دستیاب معلومات کے تفصیلی جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کے نتیجے میں ری ایکٹر کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچا۔ تاہم اس مقام پر کسی اعلان کردہ جوہری مواد کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس سے قبل ایرانی جوہری توانائی کے ادارے نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ متعلقہ جوہری تنصیبات پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا۔ حملے کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں ری ایکٹر کے قریب زور دار دھماکے، آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جس سے ممکنہ بڑے انسانی یا ماحولیاتی بحران کا خدشہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے حملے سے کچھ دیر قبل پلانٹ کے اطراف انخلا کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جس کے باعث عملے کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے اور حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔