ٹماٹر مہنگے کیوں ہوئے؟ وجوہات سامنے آگئیں

ٹماٹر مہنگے کیوں ہوئے؟ وجوہات سامنے آگئیں

پاک افغان کشیدگی کے باعث ملک بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ جاری ہے، اور کئی شہروں میں ٹماٹر کی قیمت 600 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں نرخوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں ٹماٹر کی قلت کی سب سے بڑی وجہ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں پاکستان کی ٹماٹر کی زیادہ تر ضرورت افغانستان سے درآمد کے ذریعے پوری کی جاتی ہے، لیکن حالیہ حالات کے باعث بارڈر بند ہونے سے ٹماٹر کے ٹرک پاکستان نہیں پہنچ پا رہے۔ سپلائی میں رکاوٹ کے باعث ملک بھر میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں ٹماٹر کی قیمتوں نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی سبزی منڈی میں ٹماٹر 480 روپے سے 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں قیمتیں 650 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کا طوفان ! سبزیوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

شہر قائد (کراچی) میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں ٹماٹر کی قیمت مرغی کے گوشت سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹماٹر 500 سے 700 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں، جب کہ سرکاری نرخ نامے میں قیمت 322 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں ٹماٹر 650 روپے فی کلو جبکہ گلشنِ اقبال اور برنس روڈ جیسے علاقوں میں 700 روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔ اسی طرح، شہید بینظیر آباد کی تحصیل سکرنڈ میں ٹماٹر رواں سال کی بلند ترین سطح 600 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے۔ ٹماٹر کی اس بے تحاشا مہنگائی نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ٹماٹر کی سپلائی بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

Related Articles