افغانستان سے سیز فائر خلاف ورزی نہ ہونے تک برقرار ہے ، وزیر دفاع

افغانستان سے سیز فائر خلاف ورزی نہ ہونے تک برقرار ہے ، وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے دورانیے سے متعلق دوٹوک بیان سامنے آگیا ۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیز فائر معاہدے میں یہ بہت واضح طور پر بیان کیا گیا تھا کہ کوئی دراندازی نہیں ہوگی، ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر کوئی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم بار بار یہ بات دہراتے رہے اور ظاہر ہے کہ افغانستان اس بات سے انکار کرتا ہے، ترکیہ، قطر نے زور دیا کہ بنیادی تنازع یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین یا سرپرستی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائی کے لیے دستیاب ہے، ہم نے افغانستان کو بتایا کہ سب کچھ صرف ایک شق پر منحصر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا، شرائط پر اتفاق ہو گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کا باضابطہ اعلان

ان کا کہنا تھا کہ اس سیز فائر کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی، کوئی وقت مقرر نہیں تھا کہ ہم فلاں تاریخ تک دیکھیں گے اور پھر سیز فائر معاہدے کی توسیع کریں گے، جب تک نافذ العمل معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہمارے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہے۔

خواجہ آصف  کا کہنا تھا کہ قطر میں ہونے والے مذاکرات تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے نہیں بلکہ افغان طالبان سے ہوئے تھے،  ٹی ٹی پی پاکستان کے معصوم شہریوں کے قاتل ہیں، ان سے بات چیت کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ کبھی ایسا کیا گیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں سیز فائر معاہدہ طے پایا تھا جس میں قطر اور ترکیہ نے کردار ادا کیا تھا، سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک اور بیٹھک ترکیہ میں 25 سے 27 اکتوبر تک ہو گی۔

مزید پڑھیں:قطر مذاکرات : پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے

 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا بدترین تصادم تھا۔

editor

Related Articles