آسٹریلیا میں سڑک حادثات سے بچاؤ کے لیے ایک ایسا غیر معمولی انسانی ماڈل تیار کیا گیا ہے جس کی شکل دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے ہیں۔
یہ ماڈل جسے ’گراہم‘ کا نام دیا گیا ہے، دراصل ایک لائف سائز آرٹ ورک ہے جو یہ دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے کہ اگر انسان کو کار حادثات سے مکمل محفوظ بنانا ہو تو اس کا جسم کس حد تک بدلنا پڑے گا۔
گراہم کو ایک ایسے انسان کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی پسلیاں بہت موٹی ہیں اور ان کے اندر قدرتی ایئر بیگز جیسے تھیلے موجود ہیں۔ اس کا چہرہ چپٹا، کھوپڑی بڑی، جلد موٹی اور گھٹنے ہر سمت میں حرکت کرنے کے قابل دکھائے گئے ہیں۔
یہ عجیب و غریب ڈیزائن آسٹریلوی ٹرانسپورٹ ایکسیڈنٹ کمیشن کی روڈ سیفٹی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ تیز رفتار ٹریفک حادثات میں انسانی جسم کس حد تک کمزور ہوتا ہے۔
یہ آرٹ ورک ملبورن کی آرٹسٹ پیٹریشیا پِچچینی نے سلیکون اور انسانی بالوں کی مدد سے تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گراہم کا ڈیزائن حادثات کی فزکس کو آسان انداز میں سمجھانے میں مدد دیتا ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ ٹکراؤ کی صورت میں جسم پر کتنے شدید اثرات پڑتے ہیں۔ٹراما سرجن اور حادثاتی تحقیق کے ماہرین نے بھی اس منصوبے میں مشاورت فراہم کی تاکہ انسانی جسم کے ردعمل کو بہتر انداز میں دکھایا جا سکے۔
گراہم کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک علامتی انسان کی صورت میں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ عام انسانی جسم تیز رفتار اور شدید حادثات کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہوتا۔یہ منفرد ماڈل دنیا بھر میں سوشل میڈیا اور نمائشوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر حیرت اور خوف دونوں کا اظہار کر رہے ہیں۔