صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے آٹے کی فراہمی پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی،ایسا کوئی تاثر یا الزام حقائق کے منافی ہے۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں پنجاب سے دیگر صوبوں کو آٹے کی ترسیل مکمل طور پر شفاف طریقہ کار کے تحت، سرکاری پرمٹس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ‘ہماری اولین ذمہ داری پنجاب کے عوام ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہر شہری کے لیے آٹے کی دستیابی اور مناسب قیمت کو یقینی بنایا ہے۔ یہی عوام دوست طرزِ حکمرانی ہے جو کچھ حلقوں کو ہضم نہیں ہو رہا‘۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کی ضرورت پنجاب سے حاصل شدہ آٹے کی مقدار سے بڑھ گئی ہے تو وہاں کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذخیرہ شدہ گندم جاری کرے یا پاسکو سے گندم کی خریداری کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب اپنے عوام کا حق کسی دوسرے صوبے کے سیاسی تماشوں پر قربان نہیں کر سکتا‘۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں 2 سو سے زیادہ فلور ملز بند پڑی ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ’وزیراعلیٰ کے پی احتجاج یا الزام تراشی کے بجائے اپنی فلور ملز کو فعال بنانے پر توجہ دیں تاکہ عوام کو آٹا باآسانی دستیاب ہو سکے‘۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور صوبے میں آٹے کی طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر آٹے کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو سختی سے فعال کیا گیا ہے تاکہ مصنوعی بحران پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان آٹے کی فراہمی پر حالیہ بیان بازی وفاقی سطح پر بین الصوبائی تعلقات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی آٹا دیگر صوبوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔