گلی سڑی گندم پر مل مالکان اور محکمہ خوراک کے درمیان محاذ آرائی، آٹے کے بحران کا خدشہ

ضلع راولپنڈی اور جڑواں شہروں کی فلور ملز میں ذخیرہ کی گئی 32 ہزار بوری سڑی ہوئی اور بدبودار گندم کی خریداری نہ ہونے پر فلور ملز مالکان اور محکمہ خوراک راولپنڈی کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے جس سے تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جڑواں شہروں میں آٹے کے ممکنہ بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فلور ملز نے الزام عائد کیا ہے کہ اسٹوریج سینٹر 3 کے حکام نے متنازع گندم کی خریداری مکمل ہونے تک انہیں گندم کا نیا کوٹہ دینے سے انکار کردیا ہے۔ محکمہ خوراک نے 85 فیصد نئی گندم کو متنازع گندم کے 15 فیصد میں ملانے کی پیش کش کرتے ہوئے حل تجویز کیا ہے تاہم خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر کوئی کوٹہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

اس کے جواب میں فلور ملز مالکان نے احتجاجاً آواز بلند کرتے ہوئے متنازع گندم کے لیبارٹری ٹیسٹ کے حوالے سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) میں انکوائری کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔ فلور ملز انتظامیہ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال راولپنڈی میں سرکاری گوداموں میں گندم کے حوالے سے ملوں کی جانب سے گندم گندگی اور پانی سے آلودہ ہونے کی شکایات کی گئی تھیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کے جواب میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پنجاب) نے باضابطہ طور پر محکمہ خوراک پنجاب کے سیکرٹری کو تحریری شکایت جمع کرائی۔ ڈائریکٹر فوڈ پنجاب نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس نے راولپنڈی کا دورہ کیا اور الزامات کی تصدیق کی۔ تاہم ایک سال گزرنے کے بعد بھی کسی ذمہ دار فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی اور آلودہ گندم کی ایک لاکھ 64 ہزار بوریاں زبردستی فلور ملز کو فروخت کی گئیں۔

فلور ملز انتظامیہ کے مطابق اگر اسٹوریج سینٹر 3 کے حکام نے گندم کو آلودہ نہ کیا ہوتا تو اسے گزشتہ سال فروخت کیا جا سکتا تھا جس سے پنجاب حکومت کو 70 کروڑ روپے کا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ سرکاری قیمت فروخت رواں سال کی قیمت سے 4500 روپے فی بوری زیادہ تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ناقص معیار کی وجہ سے فلور ملز نے مقامی گندم 5 ہزار روپے فی من اور درآمدی گندم 4 ہزار 700 روپے فی من خریدنے کو ترجیح دی۔ راولپنڈی فلور ملز کی جانب سے ساڑھے 3 کروڑ روپے سے زیادہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے باوجود پی آر سینٹر 3 کے حکام نے فلور ملز کو گندم فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ملوں سے کہا گیا ہے کہ یا تو آلودہ، بوسیدہ اور بدبودار گندم لے لیں یا مزید 2 ماہ انتظار کریں۔

فلور ملز مالکان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کسی نجی کمپنی یا فرد کے ساتھ کاروبار نہیں کیا بلکہ قانون کے مطابق گندم کے لیے ضروری فنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرائے ہیں اور قانون کے مطابق گندم اسی دن ان کے حوالے کردی جانی چاہیے تھی جس دن ادائیگی کی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ غلام عباس کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ آلودہ گندم خراب ہو اور اسے صاف کیا جا سکے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ خوراک متنازع گندم کی 32 ہزار بوریوں کی چھان بین کرکے فلور ملز کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ غلام عباس نے کہا کہ ملوں کو نئی اور پرانی گندم دونوں کو قبول کرنا چاہیے اور درخواستیں دائر کرنے کے بجائے فلور ملز مالکان کو براہ راست ان کے پاس آنا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ صرف بیانات دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

Related Articles