محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے بھر کے تمام نجی اسکولوں کا تفصیلی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ وہ طلبہ کے لیے لازمی 10 فیصد ’’فری شپ کوٹہ‘‘ (یعنی مفت تعلیم کے لیے مخصوص نشستوں) پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کی ایڈیشنل ڈائریکٹر رافعہ جاوید کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر تعلیم سردار شاہ اور سیکریٹری تعلیم زاہد عباسی نے ہدایت کی ہے کہ پہلے مرحلے میں سندھ کے چھ علاقوں میں ایک سے زائد برانچوں والے تمام نجی اسکولوں کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مراسلے ارسال کیے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضلعی کمیٹیاں 15 دن کے اندر ان اسکولوں کا دورہ کر کے کل داخل طلبہ کی بنیاد پر ’’10 فیصد فری شپ کوٹہ‘‘ کے ریکارڈ کا آڈٹ کریں گی۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹیں سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں جمع کرائی جائیں گی۔
یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے 9 اکتوبر 2025 کے فیصلے (آئینی درخواست نمبر 1592/2025) کے مطابق کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخواہ کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا
مزید یہ کہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کو 10 نومبر کو تمام ریکارڈ کے ساتھ طلب کر رکھا ہے۔ جو اسکول ’’10 فیصد فری شپ‘‘ کے قانون کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے، ان کا اندراج (رجسٹریشن) معطل یا منسوخ کر دیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے اسکول جو نئی رجسٹریشن یا تجدید کے خواہش مند ہیں لیکن ’’فری شپ پالیسی‘‘ پر عمل نہیں کرتے، انہیں منظوری نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح جو اسکول آڈٹ کمیٹیوں کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، انہیں ’’توہینِ عدالت‘‘ کا مرتکب سمجھا جائے گا۔ اس لیے تمام اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا ریکارڈ آڈٹ کے دوران پیش کرنے کے لیے تیار رکھیں۔
مزید پڑھیں: حکومت کا نیٹ میٹرنگ کی قیمت میں بڑی کمی پرغور

