حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ پندرہ روز کے لیے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کا اطلاق یکم نومبر سے متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ذرائع کا بتانا ہے کہ اوگرا (تیل و گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے قیمتوں میں ردوبدل کی سمری تیار کر لی ہے جو 31 اکتوبرکو وزارتِ خزانہ کو ارسال کی جائے گی، وزارتِ خزانہ سمری کا جائزہ لینے کے بعد حتمی منظوری دے گی، جس کے بعد یکم نومبر کو نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 35 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ اگر وزارتِ خزانہ کی جانب سے یہ تجویز منظور کر لی گئی تو عوام کو نومبر کے آغاز سے نئی قیمتوں پر ایندھن خریدنا پڑے گا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں درآمدی لاگت پر پڑ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی اخراجات میں اضافے نے بھی مقامی سطح پر قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں تسلسل برقرار رہا تو قیمتوں میں اضافہ محدود رہ سکتا ہے، تاہم اگر عالمی سطح پر تیل مزید مہنگا ہوا یا روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی تو آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق، حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے، تاہم بین الاقوامی حالات اور زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے، اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی مگر ناگزیر اضافہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔