ٹیکس چوری کی روک تھام اور مالی شفافیت کے لیے نیااورسخت قانونی فریم ورک نافذ

ٹیکس چوری کی روک تھام اور مالی شفافیت کے لیے نیااورسخت قانونی فریم ورک نافذ

وفاقی حکومت نے ملک میں ٹیکس چوری کی روک تھام اور مالی شفافیت کے لیے ایک نیا سخت قانونی فریم ورک نافذ کر دیا ہے،یکم جولائی سے ایسے تمام بینک اکاؤنٹس کا ڈیٹا خودکار نظام کے تحت رپورٹ کیا جائے گا جن میں چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر دس کروڑ روپے یا اس سے زائد کی ڈپازٹ یا ودہولڈنگ ٹرانزیکشنز ہوں گی۔

فنانس ایکٹ 2026 میں نئی شق کا اضافہ

فنانس ایکٹ 2026 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں نئی شق “سیکشن 165 اے بی” شامل کی گئی ہے، جس کا عنوان “مالیاتی اداروں کی جانب سے ٹرانزیکشن ڈیٹا کی رپورٹنگ” رکھا گیا ہے، اس شق کے تحت تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مخصوص مالی لین دین کا ڈیٹا الیکٹرانک طور پر مرکزی نظام میں فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

کن اکاؤنٹس کا ڈیٹا شامل ہوگا؟

نئے قانون کے مطابق ایسے تمام اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا رپورٹ کیا جائے گا جن کے ایک یا ایک سے زائد اکاؤنٹس میں چھ ماہ کے دوران مجموعی ٹرانزیکشنز دس کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہوں،اس میں کرنٹ اکاؤنٹس، سیونگز اکاؤنٹس، فکسڈ ڈپازٹس اور ٹرم ڈپازٹس سمیت تمام اقسام کے اکاؤنٹس شامل ہوں گے۔

رپورٹ ہونے والی معلومات

بینکوں کی جانب سے جو تفصیلات فراہم کی جائیں گی ان میں جمع کرائی گئی اور نکلوائی گئی رقم، اکاؤنٹ کا ابتدائی اور اختتامی بیلنس، رپورٹنگ مدت کے دوران سب سے زیادہ موجود رقم (پیک کریڈٹ) اور مجموعی کریڈٹ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

ڈیجیٹل رپورٹنگ کا طریقہ کار

یہ ڈیٹا سالانہ دو مراحل میں رپورٹ کیا جائے گا پہلی مدت (یکم جولائی تا اکتیس دسمبر) کا ڈیٹا اکتیس جنوری تک جبکہ دوسری مدت (یکم جنوری تا تیس جون) کا ڈیٹا اکتیس جولائی تک مرکزی نظام کو فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

مرکزی ڈیٹا ہب اور خودکار نظام

قانون کے مطابق تمام بینکنگ ادارے یہ معلومات ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا ہب پر اپ لوڈ کریں گے، جہاں جدید الگورتھم کے ذریعے بینکنگ اور ٹیکس ریکارڈ کا موازنہ کیا جائے گا اس عمل میں ڈیٹا کو خودکار نظام کے ذریعے پروسیس کیا جائے گا تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔

رازداری اور تحفظ کی یقین دہانی

حکام کے مطابق کراس میچنگ کے مرحلے کے دوران یہ ڈیٹا براہ راست ٹیکس حکام کی مکمل رسائی میں نہیں ہوگا، تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی، دباؤ یا ہراسانی کے امکانات کو روکا جا سکےصرف تصدیق شدہ نتائج ہی متعلقہ اداروں تک منتقل کیے جائیں گے۔

غیر مطابقت کی صورت میں کارروائی

اگر کسی اکاؤنٹ ہولڈر کے ٹیکس ریکارڈ اور بینکنگ ڈیٹا میں واضح فرق سامنے آتا ہے تو خودکار نظام اسے “کمپلائنس رسک مینجمنٹ” کے تحت مزید جانچ کے لیے نیشنل فیس لیس سینٹر کو بھیج دے گا، جہاں اس پر قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔

اسٹیٹ بینک کا کردار

قانون کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شیڈولڈ بینکوں کے مالیاتی ریکارڈ کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ اور مرکزی ورچوئل ڈیٹا بیس بھی قائم کر سکتا ہے۔

ایف بی آر کی ذمہ داری

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بینکوں سے حاصل شدہ تمام معلومات کی مکمل رازداری کو یقینی بنائے اور اس ڈیٹا کے کسی بھی غیر قانونی استعمال یا افشا کو سختی سے روکے۔

editor

Related Articles