معروف اسمارٹ فون ساز چینی کمپنی ’ون پلس‘ نے اپنا نیا بجٹ اسمارٹ فون ’ون پلس 15‘ متعارف کرا دیا ہے، جسے کمپنی نے جدید ترین ٹیکنالوجی، طاقتور بیٹری اور اپ گریڈ کیمرا سسٹم کے ساتھ پیش کیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فون پرفارمنس اور ڈیزائن کے اعتبار سے اب تک کا سب سے بہتر ’بجٹ فلیگ شپ‘ ماڈل ہے۔ کمپنی نے ’ون پلس 15‘ کو فی الحال صرف چین میں لانچ کیا ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ ماڈل جلد ہی دیگر بین الاقوامی مارکیٹس، بشمول پاکستان، میں بھی پیش کیا جائے گا۔
’ون پلس 15‘ میں 6.8 انچ کی سپر ایمولیڈ ڈسپلے دی گئی ہے جو 120 ہرٹز ریفریش ریٹ کے ساتھ کام کرتی ہے۔ فون کو اسنیپ ڈریگن کی جدید چپ سیٹ سے لیس کیا گیا ہے جبکہ اس میں اینڈرائیڈ 16 آپریٹنگ سسٹم انسٹال ہے، جسے کمپنی کے تازہ ترین ’ایکسیجن اوایس‘ انٹرفیس کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کیمرے کے لحاظ سے یہ فون دیگر بجٹ فونز سے کہیں بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔ فون کے بیک پر تین کیمرے دیے گئے ہیں، جو تینوں 50 میگا پکسل کے ہیں، جبکہ فرنٹ پر 16 میگا پکسل کا سیلفی کیمرا موجود ہے۔ کمپنی کے مطابق کیمرا سسٹم میں نیا اپ گریڈڈ لینس، بہتر نائٹ موڈ اور ’اے آئی‘ پر مبنی فوٹو اینہانسمنٹ فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔
’ون پلس 15‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی طاقتور 7,300 ایم اے ایچ بیٹری ہے۔ کمپنی نے فون کے ساتھ 50 واٹ فاسٹ چارجنگ اور 120 واٹ وائرلیس چارجنگ کا فیچر بھی دیا ہے، جو اس کلاس کے فونز میں ایک نایاب خصوصیت ہے۔ فنگر پرنٹ سینسر، چہرے کی شناخت اور دیگر جدید سیکیورٹی فیچرز بھی اس فون کا حصہ ہیں۔
اسمارٹ فون کو 8، 12 اور 16 جی بی ریم کے ساتھ تین مختلف ماڈلز میں پیش کیا گیا ہے جبکہ اسٹوریج کے لیے 256 جی بی، 512 جی بی اور ایک ٹی بی کے آپشنز دیے گئے ہیں۔
کمپنی نے ’ون پلس 15‘ کے ساتھ ایک اور ماڈل ’ایس 6‘ بھی چین میں لانچ کیا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر ’ون پلس 15 آر‘ کے نام سے متعارف کرایا جائے گا۔
قیمت کے حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ ’ون پلس 15‘ کے بیس ماڈل (8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج) کی قیمت ایک لاکھ 55 ہزار روپے کے برابر رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی اینڈ ماڈل (16 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج) کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار روپے بنتی ہے۔
ٹیک ماہرین کے مطابق اگر ون پلس نے اسی قیمت میں فون پاکستان اور دیگر ایشیائی مارکیٹس میں متعارف کرایا تو یہ فون سام سنگ، ویوو اور شاومی کے کئی پریمیم ماڈلز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ مقامی مارکیٹ کے لحاظ سے قیمتوں میں ممکنہ کمی کی جائے گی۔