پاکستان اور کینیڈا نے زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔
ہائبرڈ بیج اور لائیو اسٹاک میں تعاون
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ہائبرڈ بیجوں کی پیداوار، لائیو اسٹاک کی افزائش، اور فیڈ فارمولیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر غور کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدنی بھی بڑھے گی اور پاکستان کی زرعی برآمدات عالمی منڈیوں تک مؤثر طریقے سے پہنچ سکیں گی۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت پاکستان زراعت کے تمام شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقی کے نئے دروازے کھولنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے پاکستان میں زرعی مشینری کی مقامی تیاری کے لیے مشترکہ منصوبوں کی تجاویز بھی پیش کیں تاکہ درآمدی انحصار کم اور ملکی استعداد میں اضافہ ہو۔
کینولا کی کاشت اور غذائی تحفظ
ملاقات میں کینولا کی کاشت کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق، ’کینولا کی مقامی پیداوار سے نہ صرف خوردنی تیل کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ زرعی جدت، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور عالمی مارکیٹوں تک رسائی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔‘
مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل
پاکستان اور کینیڈا نے سرٹیفکیشن، مارکیٹ تک رسائی اور تکنیکی تعاون کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان زرعی شراکت داری کو عملی شکل دے گا۔
کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور انسانی وسائل کی تربیت کے شعبوں میں قریبی تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، کینیڈا پاکستان کو پائیدار اور ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ زرعی طریقوں کی ترقی میں بھی معاونت فراہم کرے گا۔
ایس آئی ایف سی کا کردار
وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) زرعی شعبے میں ترقی اور جدت کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مؤثر پالیسیاں غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے ملکی معیشت کو مزید استحکام حاصل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کینیڈا کے ساتھ زرعی اور غذائی تحفظ کے میدان میں شراکت داری پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔‘