ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ایک روزہ اہم دورہ پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت کے سیکیورٹی زون (ریڈ زون) میں غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔
کابینہ ڈویژن نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں قائم متعدد وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے آج 23 جون کو ’ورک فرام ہوم‘ (گھر سے کام کرنے) کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اہم سرکاری وزارتیں اور دفاتر کھلے رہیں گے
نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون کی بندش کے باوجود اہم ترین ملکی و سرکاری امور کو برقرار رکھنے کے لیے اہم شعبے معمول کے مطابق کام کریں گے۔
وزیرِ اعظم آفس، کابینہ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کھلے رہیں گے۔ اس کے علاوہ وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ قانون، وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت و پیداوار میں دفتری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وزارتِ پارلیمانی امور، پلاننگ ڈویژن، سینیٹ سیکرٹریٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھی معمول کے مطابق کام کاج جاری رہے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں کام معطل
غیر ملکی اعلیٰ سطح کے وفد کی آمد اور سڑکوں کی بندش کے باعث اسلام آباد ہائیکورٹ آج بند رہے گی۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی منظوری سے رجسٹرار محمد یار ولانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آج کی تمام کاز لسٹس منسوخ کر دی گئی ہیں اور عدالتی عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ ریڈ زون کی بندش سے سائلین اور وکلاء کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا تھا، تاہم اسلام آباد کی ضلعی عدالتیں کھلی رہیں گی۔
اسی طرح، وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد پرنسپل سیٹ میں بھی آج کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوگی اور کاز لسٹ منسوخ رہے گی، البتہ وفاقی آئینی عدالت کی چاروں برانچ رجسٹریاں انتظامی امور کے لیے کھلی رہیں گی۔
تمام عدالتی و سرکاری ملازمین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر اسٹیشن (شہر) نہیں چھوڑ سکتے۔
الیکشن کمیشن کی سماعتیں اور سینیٹ ضمنی الیکشن کیس ملتوی
سڑکوں کی بندش اور آمد و رفت کی دشواریوں کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی آج ہونے والی تمام سماعتیں معطل کر کے متعدد کیسز کو ڈی لسٹ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا سینیٹ کے ضمنی انتخابات کی معطلی سے متعلق اہم ترین آئینی درخواست پر سماعت بھی آج نہیں ہو سکے گی اور اب یہ سماعت کل ہوگی۔
سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور ایرانی صدر کا ہنگامی دورہ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ ایک روزہ دورہ سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے مقام پر امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں انتہائی اہم مذاکرات کا انعقاد ہوا تھا۔
ان خفیہ و اعلانیہ مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے فوری بعد ایرانی صدر کا اسلام آباد پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور واشنگٹن و تہران کے مابین برف پگھلانے میں ایک کلیدی مڈل مین کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سیکیورٹی کی اسی حساسیت کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں نقل و حمل کو محدود کیا گیا ہے۔
پاک، امریکا، ایران تکون اور پاکستان کا اسٹریٹجک کردار
ایرانی صدر کا دورہ اسلام آباد صرف ایک روایتی دوطرفہ دورہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری عالمی جیو-پولیٹکس کارفرما ہے۔
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی تنہائی یا معاشی چیلنجز کے باوجود اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکا اور ایران جیسے کٹر حریفوں کو ایک میز پر لانے یا ان کے مابین پیغامات کی منتقلی کا سہرا پاکستان کے سر سجنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
اسلام آباد میں آج لگنے والا جزوی لاک ڈاؤن اور عدالتوں کی چھٹی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاست اس دورے کو کس قدر حساس اور اہم لے رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کی سماعتوں کا التوا اور خاص طور پر خیبر پختونخوا سینیٹ انتخابات جیسے اندرونی سیاسی معاملات کا مؤخر ہونا یہ بتاتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کی اولین ترجیح بیرونی محاذ پر ملنے والی اس سفارتی کامیابی کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
اگر پاکستان اس ثالثی کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے میں کامیاب رہتا ہے، تو اس سے نہ صرف پاک-ایران گیس پائپ لائن جیسے معطل منصوبوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے بلکہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی ایک بڑا مثبت توازن پیدا ہو سکتا ہے۔