ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق بین الاقوامی میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں پر ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے حکومتی عہدیداروں نے ان اطلاعات کو بے بنیاد، من گھڑت اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر معمول کے مطابق اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔
ایران کی انفارمیشن کونسل کے سربراہ الیاس حضرتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ صدر مسعود پزشکیان کے استعفے یا عہدہ چھوڑنے سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام خبریں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے ایران کے سیاسی ماحول میں بے یقینی اور افواہوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں تاہم عوام کو ایسی غیر مصدقہ اطلاعات پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت پوری طرح فعال ہے اور صدر ریاستی امور کی نگرانی معمول کے مطابق کر رہے ہیں۔ الیاس حضرتی کے مطابق ملک کے اندر سیاسی استحکام برقرار ہے اور حکومتی معاملات میں کسی قسم کا خلل یا غیر معمولی صورتحال موجود نہیں۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اپنے روزمرہ سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں اور مختلف قومی و بین الاقوامی امور پر معمول کے مطابق فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض غیر ملکی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر پزشکیان نے مبینہ طور پر اپنا استعفیٰ سپریم لیڈر کے دفتر کو ارسال کر دیا ہے اور حکومتی سطح پر اختیارات کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبروں کا مقصد ایران کے سیاسی نظام کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے فوری اور واضح تردید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران قیادت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کا بروقت جواب دے کر سیاسی استحکام کا پیغام دینا چاہتا ہے۔