خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے تین دہشتگرد ہلاک

خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے تین دہشتگرد ہلاک

خیبر پختونخوا کے اضلاع شمالی وزیرستان اور ٹانک میں سیکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے وابستہ تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

پاک شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دو دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ ہلاک دہشتگردوں کا تعلق بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا ضلع کرم میں آپریشن، بھارتی اسپانسرڈ 7 دہشتگرد ہلاک، کیپٹن سمیت چھ جوان شہید

مارے گئے دہشتگردوں میں ایک کی شناخت افغان شہری خوارج قاسم کے نام سے ہوئی، جو ماضی میں افغان بارڈر پولیس میں خدمات انجام دے چکا تھا۔

دوسری کارروائی ٹانک میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں ایک اور خارجی دہشتگرد اکرام الدین عرف ابودجانہ مارا گیا۔ وہ بھی افغان شہری تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعات پاکستان میں افغان شہریوں کی دہشتگردی میں شمولیت کا ایک اور ثبوت ہیں۔ پاکستان نے اس موقع پر عبوری افغان حکومت سے مؤثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنانے اور افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے پر زور دیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ’’عزمِ استحکام ‘‘کے تحت بھارت نواز دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، اور پاکستانی فورسز سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹانک ، سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،بھارتی حمایت یافتہ 8 خوارج ہلا ک

قبل ازیں باجوڑ کے علاقے کوثر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران داعش خراسان سے منسلک دہشتگرد ضیاالدین عرف ابراہیم ادریس ہلاک ہو گیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ضیاالدین کی ہلاکت سے داعش خراسان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں ضیاالدین مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا ضیاالدین پی ٹی آئی رہنما ریحان زیب اور اے این پی کے مولانا خان زیب کے قتل میں ملوث تھا۔

سیکورٹی ذرائع نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ضیاالدین طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل افغان جیل میں قید تھا، مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔

رہائی کے بعد ضیاالدین دوبارہ شدت پسندی میں ملوث ہو گیا اور 2023 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا۔

Related Articles