ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، امن اور سفارتی کامیابی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی اعتماد کی فضا بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ترک صدر نے اپنے بیان میں پاکستان کی جانب سے معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے کی جانے والی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا جس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ خطے کے تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
ترک صدر نے امریکا، سعودی عرب اور قطر کی جانب سے معاہدے کی کامیابی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان ممالک نے امن عمل کو آگے بڑھانے میں قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا ایک طویل عرصے سے کسی ایسی مثبت پیش رفت کی منتظر تھی جو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے کا سبب بن سکے۔
اردوان نے فریقین پر زور دیا کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط ہونے تک ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے اور کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز بیانات یا اقدامات سے گریز کیا جائے تاکہ امن عمل متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس مرحلے پر تحمل، تدبر اور سفارتی حکمت عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔