حکومت نے تھوک اور پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نیا ضابطہ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ اگر ان پر منہا کیا گیا ایڈجسٹ ایبل ودہولڈنگ ٹیکس بالترتیب ایک لاکھ روپے یا 5 لاکھ روپے ماہانہ سے تجاوز کرے تو انہیں اپنے کاروبار کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم سے منسلک کرنا ہوگا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کے مطابق یہ اقدام ٹیکس مشینری کو یہ صلاحیت فراہم کرے گا کہ وہ ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کی اصل فروخت کا درست اندازہ لگا سکے تاکہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی وصولی میں اضافہ ہو۔
حکومت نے پہلے بھی ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ان پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات جی۔ 236 اور ایچ۔236 کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں بڑھائی تھیں۔ گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر نے ریٹیلرز سے 82 ارب روپے کی آمدنی بطور انکم ٹیکس وصول کی تھی۔
تاہم، حکومت نے مجموعی ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار میں ابہام پیدا کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ تاجر برادری نے قومی خزانے میں 700 ارب روپے سے زیادہ کا حصہ جمع کروایا، جبکہ صرف تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال میں 600 ارب روپے سے زیادہ انکم ٹیکس ادا کیا۔ ابتدائی طور پر یہ رقم 555 ارب روپے بتائی گئی تھی، لیکن بُک ایڈجسٹمنٹ کے بعد یہ بڑھ کر 600 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز میں ترمیم کرتے ہوئے ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے لیے کاروبار کو انضمام کے عمل سے گزارنا لازمی قرار دیا ہے۔ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں ہول سیلرز اور ریٹیلرز موجود ہیں، تاہم یہ پابندی صرف ان کاروباری افراد پر لاگو ہوگی جن پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی بالترتیب ایک لاکھ روپے (ہول سیلرز) یا 5 لاکھ روپے (ریٹیلرز) سے زیادہ ہو۔
منگل کو ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 50 کے تحت اور دفعات 22 اور 23 کے ساتھ ملا کر سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم کی گئی ہیں، تاکہ ٹیکس کی شفاف وصولی اور کاروباروں کی درست رجسٹریشن یقینی بنائی جا سکے۔
یہ نیا ضابطہ حکومت کی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس چوری کے امکانات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، اور ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف ٹیکس کے نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ ملکی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔