امریکا نے ویزا پالیسی بدل دی،سفارت خانوں کو نیا مراسلہ جاری

امریکا نے ویزا پالیسی بدل دی،سفارت خانوں کو نیا مراسلہ جاری

امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ایک نیا سفارتی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ بعض طبی مسائل کے شکار افراد کو امریکا کا ویزا جاری نہ کیا جائے۔

نئی ہدایت میں واضح کیا گیا ہے کہ موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر مخصوص بیماریوں میں مبتلا درخواست دہندگان کو ویزا دینے سے گریز کیا جائے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :آئندہ سال صرف 7,500 تارکین وطن امریکی ویزا کے اہل ہوں گے،ٹرمپ

اس پالیسی کے تحت ایسے افراد جنہیں امریکا میں داخلے یا طویل مدتی قیام کے دوران علاج معالجے کی ضرورت پڑ سکتی ہےان کی درخواستیں مسترد کی جا سکتی ہیں۔

امریکہ کا یہ اقدام خاص طور پر ان غیر ملکیوں کو متاثر کرے گا جو امریکا میں مستقل رہائش یا طویل مدتی امیگریشن ویزا کے لیے درخواست دیتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں :امریکی سفارتخانہ نے ویزااپوائنٹمنٹ ٹائم 50 فیصد کم کر دیا

امریکی حکام اب اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا درخواست دہندہ اپنے علاج کے اخراجات خود برداشت کرنے کی مالی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

یہ ہدایت ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے جن کے تحت امیگریشن قوانین میں پہلے بھی سختیاں متعارف کرائی گئی تھیں۔

ماضی میں بھی بعض ممالک کے شہریوں اور پناہ گزینوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ خبر بھی پڑھیں :ویزا اپلائی کرنے میں عام غلطیاں جس سے خوابوں کا سفر رکاوٹ کا شکارہوسکتا ہے

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست دہندہ کو ذیابیطس، موٹاپے یا کسی ذہنی یا جسمانی بیماری کا سامنا ہے تو امیگریشن افسران پبلک اصول کے تحت اس کی ویزا درخواست مسترد کر سکتے ہیں۔

اس قانون کے مطابق وہ افراد جو امریکا جا کر سرکاری وسائل پر بوجھ بن سکتے ہیں انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ عمر، صحت، مالی حالت اور علاج پر سرکاری انحصار کے خدشات کو بھی ویزا کے فیصلے میں مدنظر رکھا جائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں اس وقت 10 کروڑ سے زائد شہری موٹاپے اور تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *