مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا

مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا

سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی منظوری کے بعد مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ آج ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا۔

سینیٹ کا اجلاس آج پیر صبح 11 بجے منعقد ہوگا، جس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے، جب کہ وزیرِ قانون ترمیمی بل کو منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا ستائیسویں آئینی ترمیم کل سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بھی آج شام ساڑھے چار بجے طلب کیا گیا ہے، جہاں آئینی ترمیمی بل پر مزید کارروائی متوقع ہے۔

گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کے مکمل ڈرافٹ کی منظوری دی تھی۔ کمیٹی نے شق وار غور کے بعد 49 ترامیم کی منظوری دی، جن میں اہم آئینی نکات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 243 پر تفصیلی مشاورت کے بعد منظوری دی جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق شق کو بھی منظور کرلیا گیا۔ اس کے علاوہ زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی ہے۔ کمیٹی کی سفارش کے مطابق اگر کسی مقدمے کی ایک سال تک پیروی نہ کی جائے تو اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔

اپوزیشن جماعتوں نے کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی بعض مجوزہ ترامیم پر ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جب کہ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

مزید پڑھیں:مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ختم،ترمیمی ڈرافٹ پر تمام پارٹیاں متفق،کل ہاؤس میں رپورٹ فائل کر دیں گے،وزیر قانون

حکومتی ذرائع کے مطابق اے این پی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کے تحفظات دور کیے جائیں گے، تاہم بلوچستان سے متعلق تجویز پر مزید مشاورت کے لیے وقت طلب کیا گیا ہے۔

مشترکہ قائمہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے کچھ ترامیم پر حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار انہیں اور وزیرِ قانون کو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے وسیع مشاورت کے بعد ایک متوازن آئینی ترمیمی مسودہ تیار کیا ہے جس سے عدالتی اور انتظامی امور میں بہتری کی امید ہے۔

مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں متعدد اہم تبدیلیوں کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے، جب کہ حکومت آج ایوان میں اس کی منظوری کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *