وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی حالات کی وجہ سے ہوا اور اس کا زیادہ بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی، جس کے باعث تیل کی قیمتیں مجبوراً عوام پر منتقل کرنا پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کمی کی اور 50 سے 60 ارب روپے ہفتہ وار خود برداشت کر کے عوام کو ریلیف دیا گیا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ دبئی اور عمان کی منڈیوں میں کروڈ آئل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تھی جو اب 170 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیٹرول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 80 فیصد سے زیادہ تیل درآمد کرتا ہے اور دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 25 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا کویت پیٹرولیم کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل منگوانے کا معاہدہ ہے، جس میں 5 سے ساڑھے 5 ڈالر فی بیرل پریمیم، ایک ڈالر کرایہ اور چند ڈالر انشورنس کی لاگت شامل تھی، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد متبادل انتظام کیا گیا تاکہ سپلائی متاثر نہ ہو۔