اسلام آباد(شاہد قریشی) قانون و انصاف کی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا ہے ستائیسویں آئینی ترمیمی ڈرافٹ پر تمام پارٹیز مفتق ہیں چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بنیادی مسودے کی منظوری دی جا چکی ہے اور کچھ ترامیم کی گئیں جبکہ کچھ ترامیم کا اختیار انہیں اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو دیا گیا ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی تجاویز پر کمیٹی اجلاس خود فیصلہ نہیں کر سکا تاہم جب رپورٹ تیار ہو جائے گی تو یہ ہاؤس کا اختیار ہوگا کہ کب اس پر ووٹنگ کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل کمیٹی کی رپورٹ ہاؤس میں فائل کر دی جائے گی اور ایم کیو ایم کی تجاویز کے حوالے سے بھی بریک تھرو کل متوقع ہےڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ سب نے متفقہ طور پر اپنی رائے دی ہے جسے ملک کے لیے خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس ترمیم میں 243 کے آرٹیکل سمیت دیگر اہم شقیں شامل ہیں اور کل رپورٹ پیش ہونے کے بعد تمام پارٹیز کو مکمل معلومات مل جائیں گی۔
فاروق ایچ نائیک اور وزیر قانون کہنا تھا کہ یہ ملک میں آئینی اصلاحات اور قانون سازی کے عمل کو مضبوط بنائے گا اس متفقہ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے آئینی ترامیم میں باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا اور ملک کی آئینی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ موقف اختیار کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ کمیٹی کی سفارشات ہاؤس میں پیش ہونے کے بعد تمام ترامیم پر رائے شماری ہوگی اور یہ ملک کی آئینی ترقی کے لیے ایک تاریخی قدم ہے جو آئندہ قانون سازی اور سیاسی استحکام کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔