امریکا نے شام پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم کردیں

امریکا نے شام پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم کردیں

شامی صدر احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، علاقائی امن، خطے اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ملاقات بند تھی اور اس میں امریکی ایلچی ٹام براک اور سکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو شریک تھے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ملاقات کے بعد شامی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے شامی صدر پسند آئے اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ شام کامیاب ہو کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے’۔

ٹرمپ نے احمد الشرع سے تعمیری ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خزانہ کی  شام پر قیصر ایکٹ کے تحت عائد پابندیاں 6 ماہ کے لیے ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن کو امریکی تاریخ کا بدترین صدر قرار دیدیا

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا خاتمہ شام کی معیشت کی تعمیر میں مدد کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے خوشحالی فراہم کرے گا۔

قبل ازیں احمد الشرع کے دورے سے چند روز قبل ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے شام پر سے پابندیاں ہٹانے کے لیے اقدامات کیے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ الشارع اچھا کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ قیصر ایکٹ 2019 میں منظور ہوا تھا جس کا مقصد بشار الاسد حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔

قیصر ایکٹ کی پابندیاں شام کی سابقہ حکومت اور فوج کے ساتھ امریکی کاروباری تعلقات سے متعلق تھی، ان پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو شام کی حکومت یا فوج کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نائیجیریا کو الٹی میٹم، فوجی کارروائی کی دھمکی

امریکا نے جون میں بھی شام پر عائد کچھ پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم قیصر سیریا سویلین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد پابندیاں برقرار تھیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *