تھائی لینڈ نے اپنی سرحد کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں2 فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد کمبوڈیا کے ساتھ حال ہی میں امریکی صدر کی ثالثی میں طے پانے والا امن معاہدہ معطل کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حمایت یافتہ یہ معاہدہ اس واقعے کے بعد منسوخ کر دیا گیا ہے جو دونوں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
تھائی وزیراعظم انوتین چرنیوراکل نے اعلان کیا کہ جب تک کمبوڈیا تھائی لینڈ کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا، امن عمل معطل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’امن اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک کمبوڈیا ہمارے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے اور مزید سرحدی واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا۔’
رپورٹس کے مطابق دھماکہ ایک ایسے علاقے میں ہوا جو بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے اور طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے۔ تھائی فوجی حکام کے مطابق ایک گشتی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 2 فوجی شدید زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب کمبوڈیا کی حکومت نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امن کے تسلسل پر زور دیا ہے۔ کمبوڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ‘کمبوڈیا امن معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور تھائی لینڈ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کرے۔’
گزشتہ ماہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں طے پانے والا یہ امن معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری سرحدی تنازع اور فوجی جھڑپوں کو ختم کرنے کی کوشش تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاہدے کی معطلی خطے میں دوبارہ کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے اور حالیہ سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
علاقائی مبصرین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی ثالثی کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ سرحدی تنازع مزید نہ بڑھے۔