وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی آئی حمایت یافتہ یوٹیوبرز کی عرفان صدیقی کی وفات پر ہرزہ سرائی پر سخت ردعمل

وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی آئی حمایت یافتہ یوٹیوبرز کی عرفان صدیقی کی وفات پر ہرزہ سرائی پر سخت ردعمل

وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ یوٹیوبرز، بشمول معید پیرزادہ، کی جانب سے سینیٹرعرفان صدیقی کی وفات پر ہرزہ سرائی اور جھوٹے الزامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے لکھا کہ یہ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہر حد پار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی وفات پا گئے

عطا اللہ تارڑ نے لکھا کہ ’اپنے بے ہوش والد کا انگھوٹا لگا کر پراپرٹی اپنے نام کرنے کی کوشش میں بیرون ملک گرفتار ہونے والے صاحب(معید پیرزادہ)، عرفان صدیقی کی وفات پر جھوٹ بول کر سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے بھی ان لوگوں نے کلثوم نواز صاحبہ کی بیماری اور وفات پر سیاست کی تھی، لیکن اب تک کچھ بھی نہیں سیکھا۔‘

واضح رہے کہ معید پیرزادہ نے سینیٹرعرفان صدیقی کی وفات سے متعلق خواجہ سعد رفیق کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’وہ اتنے بڑے اور محترم دانشمند سینیٹر تھے کہ سینٹ سے ان کی رحلت کی خبر چھپائی گئی تاکہ کہیں 27ویں ترمیم کا مجرمانہ کام ادھورا نہ رہ جائے۔‘

عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر زور دیا کہ سوشل میڈیا پر ایسی ہرزہ سرائی اور جھوٹے الزامات کی کوئی جگہ نہیں اور عوام کو بھی خبردار کیا کہ وہ اس قسم کے بیانات کو سنجیدہ نہ لیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ لوگ ذاتی مفادات اور سیاسی مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور ایسے رویوں سے ملکی سیاست کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم میں 18 ویں ترمیم کو کوئی نہیں چھیڑ رہا ، وفاقی وزیر اطلاعات

عطا اللہ تارڑ کا مؤقف واضح ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ یوٹیوبرز کی جانب سے سینیٹرعرفان صدیقی کی وفات پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ وزیر اطلاعات نے عوام اور میڈیا سے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی کوشش کریں اور ایسے عناصر کی ہرزہ سرائی کو قبول نہ کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *