27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد فیصل واوڈا کا اہم بیان سامنے آگیا

27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری   کے بعد فیصل واوڈا  کا اہم بیان سامنے آگیا

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اب ملک میں صرف ترمیم اور ترقی ہی واحد راستہ ہے، جب پاکستان کی بقا کی بات ہوگی تو معاملات تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “جب پاکستان کی بقا کی بات ہوگی تو چیزیں تیز ہوں گی، پہلے بھی کہا تھا کہ اب ترمیم اور ترقی ہوگی، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ ملک کے سیاسی اور ادارہ جاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے عدالتی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ “جب عدالتی نظام کی بات آتی ہے تو ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو یاد رکھنا چاہیے۔” ان کے مطابق عدلیہ سے متعلق کئی ایسے معاملات ہیں جن پر عوامی سطح پر سوالات اٹھتے ہیں اور ان پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نشانہ بازی میں مہارت فوجی تربیت کا بنیادی جزو رہنا چاہیے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

انہوں نے مزید کہا کہ “کوئی نیوٹرل نہیں ہوتا، ہر شخص کسی نہ کسی کی سائیڈ لیتا ہے،” اور خبردار کیا کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ملک میں ہلچل مچانے کی کوشش کی جائے گی۔

فیصل واوڈا نے وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو یہ واقعہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے سانحے سے بھی بڑا ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق کیڈٹ کالج میں اس وقت 650 سے زائد طلبہ موجود تھے، اور اگر پاک فوج نے فوری ایکشن نہ لیا ہوتا تو جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا۔

سینیٹر واوڈا نے پاک فوج کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ “فوج کی زبردست اور بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیے اور سیکڑوں طلبہ کی جانیں محفوظ رہیں۔” انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فوج کی قربانیاں اور بروقت ردِعمل قابلِ فخر ہیں۔

Related Articles