سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ مستعفیٰ

سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ مستعفیٰ

سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفی دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ججز کا استعفیٰ صدر مملکت کو پہنچ گیا ہے۔ جبکہ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن اور سابق اٹارنی مخدوم علی خان نے بھی عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ 

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہیں اپنے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا، “صاف ضمیر کے ساتھ جا رہا ہوں، مجھے کوئی ہچھتاوا نہیں ہے۔”

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں احمد فراز کے اشعار بھی تحریر کیے۔ انہوں نے لکھا، “میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی”۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین پر حملہ کیا گیا ہے۔

استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ نے واضح طور پر کہا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدلیہ کو ایگزیکٹو کے ماتحت ادارہ بنا دیا گیا ہے، جو عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کا استعفیٰ صدرِ مملکت کو موصول ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنا چیمبر بھی خالی کر دیا ہے۔

مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔

Related Articles