خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے متعلق نئے انکشافات، سیاسی ماحول میں گرما گرمی، نئی بحث چھڑ گئی

خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے متعلق نئے انکشافات، سیاسی ماحول میں گرما گرمی، نئی بحث چھڑ گئی

وزیر دفاع خواجہ آصف کے تازہ ترین بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کیے گئے انکشافات درست ہیں اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کا کردار سابق اعلیٰ عسکری حکام کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ ان کے بیانات نے حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں ایک مرتبہ پھر گرما گرم بحث کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بشریٰ بی بی گوشت، بکرے کا سر اور مرغیاں منگوا کر عمران خان کے گرد جلاتیں، دی اکانومسٹ رپورٹ میں انکشاف

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اکانومسٹ کی رپورٹ میں مذکور دعوؤں کی بنیاد پہلے بھی سامنے آتی رہی ہے اور ان کے مطابق بشریٰ بی بی کی دی گئی معلومات کئی بار چند دنوں میں درست ثابت ہوتی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی مبینہ طور پر اس دوران جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے اثر میں تھے اور ملک کے سیاسی منظرنامے کو ایک منظم حکمت عملی کے تحت تبدیل کیا گیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والی معاشی بے ضابطگیاں ایک باقاعدہ منصوبے کا حصہ تھیں، جس کے اثرات ملکی سیاست اور معیشت نے شدید طور پر محسوس کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں ہونے والے فیصلے بھی اسی سلسلے کی کڑی تھے، جبکہ بدعنوانی سے حاصل رقم کا ایک حصہ بانی پی ٹی آئی کو ملتا رہا اور باقی بیرون ملک منتقل ہوتا رہا۔

گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق خاتون اوّل کے اثر و رسوخ کے باعث ریاستی فیصلوں پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے، جو ان کے بقول قومی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک جامع رپورٹ عمران خان کو پیش کی تھی جس پر ناراض ہو کر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

مزید پڑھیں:عمران خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کے ہوشربا انکشافات

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کو ایک غیر معمولی سیاسی شخصیت سمجھتی رہی جبکہ وہ ان کے الفاظ میں ایک عورت کے ہاتھوں بیچے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوٹ مار کی رقم سے عمران خان کو حصہ ملتا تھا جبکہ باقی مبینہ طور پر گوگی نامی شخصیت کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہوتی رہی۔

دی اکانومسٹ کی شائع کردہ رپورٹ نے بھی اس بحث میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ میں عمران خان کی سیاسی حکمت عملی، بشریٰ بی بی کے اثرات اور بنی گالہ میں انجام دی جانے والی بعض مذہبی و روحانی رسومات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق خاتون اول کے آنے کے بعد بعض غیر معمولی رسومات کے چرچے رہے جن میں کالے بکرے، مرغیوں کی قربانی اور مختلف روحانی طریقے شامل تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کے یہ بیانات آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا سکتے ہیں اور اس معاملے پر حکومتی و اپوزیشن بیانیہ ایک بار پھر ٹکراؤ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *