پاکستان اور قطر کے تعلقات میں تاریخی اقتصادی و دفاعی معاہدے کی راہ ہموار

پاکستان اور قطر کے تعلقات میں تاریخی اقتصادی و دفاعی معاہدے کی راہ ہموار

قطر کے درالحکومت دوحہ میں پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور زرعی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا سہرا اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی فعال کوششوں کے سر ہے۔

حال ہی میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن آل ثانی سے دوحہ میں اہم ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کا دورہ قطر، افغان طالبان سے اہم مذاکرات متوقع

ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون مزید بڑھانے، مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد اور دفاعی ٹیکنالوجی و مہارت کے تبادلے کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ قطری وزیر دفاع نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

اس ملاقات میں زراعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھولنے پر زور دیا گیا۔ قطر نے پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لینے اور جدید طریقۂ کاشت کاری و ٹیکنالوجی کے تبادلے کی خواہش کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا اقتصادی و دفاعی تعاون نہ صرف دفاعی صنعت اور برآمدات کو نئی رفتار دے گا بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری میں وسعت اور زرعی شعبے کی ترقی کے نئے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

مزید پڑھیں:صدرِ مملکت کی امیرِ قطر سے ملاقات ، پاک۔سعودی دفاعی معاہدے خوش آئند قرار

پاکستان کی اقتصادی، زرعی اور دفاعی ترقی میں ‘ایس آئی ایف سی’ مسلسل اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اسی فعال رابطہ کاری کے نتیجے میں پاکستان اور قطر کے تعلقات ایک مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری کی جانب گامزن ہیں۔

Related Articles