پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی اور اسموگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ’لیکوئیڈ ٹری‘ منصوبے کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ منصوبہ مائیکرو الجی (Microalgae) کے استعمال پر مبنی ہے، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ان مقامات پر خاص طور پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جہاں روایتی درخت لگانا ممکن یا آسان نہیں ہوتا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا ماحولیاتی تحفظ کے معیار پر پورا اترنے والا لیکوئیڈ ٹری فیصل آباد سے لاہور منتقل کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں ملک کے مختلف علاقوں سے جمع کی گئی 100 سے زائد اقسام کی مائیکرو الجی استعمال کی جا رہی ہیں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں لیکوئیڈ ٹری شاپنگ مالز، عوامی مقامات اور مختلف انڈور و آؤٹ ڈور مقامات پر نصب کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس کے فوائد سے مستفید ہو سکیں۔
پنجاب حکومت کے مطابق یہ منصوبہ ایک وسیع ماحولیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں پلاسٹک فری زونز کا قیام، صنعتی علاقوں کے اطراف گرین بفر زونز، شجرکاری مہمات اور آلودگی پھیلانے والے کاروباروں کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لیکوئیڈ ٹری مستقبل میں کاربن اخراج کم کرنے اور بڑے شہروں میں فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے ایک مؤثر اور جدید حل ثابت ہو سکتے ہیں۔