وفاقی بجٹ ومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد تنخواہ دار طبقے کے لیے مزید ٹیکس ریلیف کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں، بجٹ پر بحث جاری ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس میں ترامیم اور بہتری کی تجاویز بھی دی جا رہی ہیں۔
سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ریلیف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طبقے پر ٹیکس کا بوجھ اب بھی زیادہ ہے اور اسے مزید کم کرنے کی ضرورت ہے۔
ماہانہ 15لاکھ روپے سے کم آمدن رکھنے والے افراد پر ٹیکس کا دباؤ غیر متناسب ہے، جس کی وجہ سے وہ روزمرہ اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی بجلی، گیس اور دیگر ضروریات کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان ہے، جبکہ زیادہ ٹیکسز کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے اخراجات بھی ان کے لیے مشکل ہو چکے ہیں۔
گوہر اعجاز نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس نظام کو سادہ بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صرف تین سلیب رکھے جائیں۔ ان کی تجویز کے مطابق ماہانہ ایک سے پانچ لاکھ روپے آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس،5سے 10 لاکھ روپے آمدن پر 10 فیصد ٹیکس، جبکہ 15لاکھ روپے سے زائد آمدن پر بیس فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تنخواہ دار طبقے کو مناسب ریلیف دیا جائے تو ان کی خریداری کی طاقت بڑھے گی، جس سے معیشت میں گردش بڑھے گی اور بالآخر حکومت کی ٹیکس آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔
موجودہ وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ متوسط طبقے کو سہولت دی جائے تاکہ وہ زیادہ خرچ کر سکیں اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔