بجٹ میں پراپرٹی خریدنے اور بیچنے پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی منظوری

بجٹ میں پراپرٹی خریدنے اور بیچنے پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی منظوری

حکومت نے یکم جولائی سے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی نئی شرحیں نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں غیر منقولہ جائیداد کے لین دین پر نیا ٹیکس نظام لاگو ہو گیا ہے بجٹ میں پراپرٹی خریدنے اور بیچنے پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی منظوری دے دی گئی ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی بجٹ کےتحت حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت پرعائد ودہولڈنگ یعنی ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے بعد فائلرز کے لیے یہ ٹیکس نصف رہ گیا ہے۔

نئی مالیاتی پالیسی کے مطابق جائیداد کی خریداری پر لاگو ایڈوانس ٹیکس کی شرح دو اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے ایک اعشاریہ دو پانچ فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایک اہم ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 بجٹ منظوری کے بعد نئے مالی سال کے آغاز سے پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکس ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں  نئے قانون کے تحت جائیداد فروخت کرنے والے شخص سے مجموعی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اسی طرح جائیداد خریدنے والے افراد پر بھی فیئر مارکیٹ ویلیو کے حساب سے  کمی کے بعد1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پراپرٹی کے لین دین کی مجموعی لاگت میں اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کیلئے اہم خبر

مزید برآں فنانس بل کے تحت کارپوریٹ سیکٹر اور بینکاری شعبے پر بھی ٹیکس بوجھ میں اضافہ کیا گیا ہے نئے قانون کے مطابق بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر سیکٹر کی 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

اسی طرح دیگر کارپوریٹ کمپنیوں کی 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 8 فیصد ٹیکس لاگو کیا جائے گا، جس کا مقصد بڑے کاروباری اداروں سے زیادہ محصولات حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے، ان اقدامات سے حکومتی آمدن میں اضافہ ممکن ہے، تاہم اس کے اثرات کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے رجحان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles