بھگوڑے یوٹیوبرز کیلئے بری خبر، برطانیہ نے سیاسی پناہ کی مدت پانچ سال سے کم کر کے صرف 30 ماہ کر دی

بھگوڑے یوٹیوبرز کیلئے بری خبر،  برطانیہ نے سیاسی پناہ کی مدت پانچ سال سے کم کر کے صرف 30 ماہ کر دی

برطانوی حکومت نے اپنے اسائلم قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کردیں ہیں جن کے اثرات خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایتی اُن یوٹیوبرز پر پڑیں گے جو سیاسی پناہ کے سہارے ملکی اداروں کیخلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی جانب سے قوانین میں تبدیلی کا مسودہ پارلیمان میں پیش کیا گیا جسے بعد میں برطانیہ کے ہوم آفس نے اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا ہے ۔ اس نئی پالیسی کے تحت عارضی پناہ کی میعاد اب صرف 30 ماہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: بھگوڑے عادل راجہ کا جھوٹ آخر کار بے نقاب، برطانوی عدالت نے آئی ایس آئی کو کلین چٹ دیدی

اس مدت کے اختتام پر حکومت پناہ گزینوں کی صورتحال کا دوبارہ مکمل جائزہ لے گی، اور اگر ان کا آبائی ملک محفوظ تصور کیا گیا تو انہیں وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق سیاسی پناہ کی مدت پانچ سال سے کم کر کے صرف 30 ماہ کر دی گئی ہے، جبکہ مستقل رہائش کی درخواست دینے کے لیے 20 سال انتظار کرنا ہو گا،جس کی اس سے قبل مدت پانچ سال تھی ۔

یہ تبدیلیاں خاص طور پر اُن پی ٹی آئی سے وابستہ یوٹیوبرز کیلئے تشویش کا باعث ہیں جو ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ اور سیاسی مہمات چلانے میں مصروف ہیں۔

ان یوٹیوبرز میں عادل راجہ، عمران ریاض خان اور صابر شاکر جیسے نام نمایاں ہیں،اب نہ صرف مختصر مدت کی غیر یقینی حیثیت کا سامنا کریں گے بلکہ انہیں مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے بھی بے حد طویل اور کڑی جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔   پالیسی کی سختیاں ان کی سیاسی سرگرمیوں، میڈیا بیانیے اور بیرونِ ملک جاری پراپیگنڈہ مہمات کیلئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں تعلیم کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لئے خوشخبری

برطانوی حکومت کے اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی سے منسلک بھگوڑے یوٹیوبرز کیلئے برطانیہ آئندہ کا راستہ پہلے سے کہیں زیادہ غیر یقینی اور مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *