اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں میں زبردست تیزی‘، تل ابیب میں تباہی، 24 گھنٹوں میں 100 سے زیادہ اسرائیلی زخمی

اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں میں زبردست تیزی‘، تل ابیب میں تباہی، 24 گھنٹوں میں 100 سے زیادہ اسرائیلی زخمی

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ’24‘ گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملوں میں ’100‘ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب اور اس کے اطراف کے علاقوں میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کے بعد کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث امدادی ٹیموں کو آگ بجھانے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہنگامی کارروائیاں کرنا پڑیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ،اسرائیل کی ایران سے جنگ ، اب تک کن ممالک میں کتنے افراد جان سے گئے ؟

اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق شہری دفاع کے ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیراعظم ’بنیامین نیتن یاہو‘ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ زندہ ہے تو اس کا تعاقب جاری رکھا جائے گا اور اسے پوری قوت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں ایران اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہوں نے ’10‘ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو پیغام دینا تھا، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عراق چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں اب تک ’43,000‘ عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ ان تباہ ہونے والی عمارتوں میں سے ’36,500‘ رہائشی یونٹس شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق صرف تہران شہر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ’10,000‘ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں ’43‘ ایمرجنسی طبی مراکز، ’32‘ ایمبولینسیں اور ’120‘ اسکول بھی شامل ہیں۔

ایرانی حکومت کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک ’223‘ خواتین شہید ہو چکی ہیں جبکہ شہید ہونے والے اساتذہ اور طلبہ کی مجموعی تعداد ’206‘ تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے متاثرین کو نکالنے کا عمل جاری ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ ’آپریشن وعدہ صادق‘ کے تحت حملوں کی نئی لہر شروع کر دی گئی ہے۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران سعودی عرب کے شہر الخرج میں واقع امریکی فوجی اڈے کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا جہاں جدید لڑاکا طیاروں کے تربیتی مراکز موجود تھے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق یہ حملہ جدید میزائلوں کے ذریعے کیا گیا جس میں مبینہ طور پر ایف ’35‘ اور ایف ’16‘ طیاروں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ’51‘ ویں کارروائی تھی جو شہید ’ابو القاسم بابائیان‘ اور ان کی اہلیہ کی یاد میں کی گئی۔

مزید پڑھیں:ایران کے اندر امریکا اوراسرائیل کا نیا خوفناک منصوبہ سامنے آگیا، علاقائی صورتحال مزید کشیدہ

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی کھیلوں پر بھی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ بین الاقوامی موٹر ریسنگ مقابلوں کی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فارمولا ون کی ’2‘ ریسیں منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور بین الاقوامی کھیلوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو مشرق وسطیٰ ایک بڑے علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *