بھارتی تیجس کے تباہ ہونے سے دبئی ایئر شو داغدار، ایونٹ کی تاریخ میں پہلا المناک واقعہ قرار

بھارتی تیجس کے تباہ ہونے سے دبئی ایئر شو داغدار، ایونٹ کی تاریخ میں پہلا المناک واقعہ قرار

دبئی ایئر شو کے دوران بھارت کے جنگی طیارے تیجس کے گر کر تباہ ہونے نے اس بین الاقوامی ایونٹ کو شدید دھچکا پہنچایا اور اس کی ساکھ کو داغ دار کر دیا۔

جمعہ کے روز ہونے والے اس افسوسناک واقعے میں بھارتی پائلٹ بھی جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد دبئی میں موجود ایوی ایشن ماہرین اور انتظامیہ نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔

بھارتی ایئر فورس نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ مقامی طور پر تیار کیا جانے والا لڑاکا طیارہ تیجس ایئر شو کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پائلٹ اور طیارے کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں، جبکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے سبب پیش آیا یا پائلٹ کے تجربے کی کمی اس کا باعث بنی۔ تحقیقاتی ٹیمیں مختلف زاویوں سے شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں۔

یہ واقعہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ دبئی میں جاری 19 ویں ایئر شو کی تاریخ میں پہلی بار کسی طیارے کو حادثہ پیش آیا ہے۔ بھارتی طیارے کا گرنا نہ صرف بھارتی فضائیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا بلکہ اس نے پورے ایونٹ پر بھی منفی اثر ڈالا۔ واضح رہے کہ دبئی ایئر شو کا آج پانچواں اور آخری دن تھا، تاہم حادثے کے بعد تمام فضائی مظاہرے فی الحال روک دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں تیجس کے تباہ ہونے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا پر مودی سرکار شدید تنقید کی زد میں

ایئر شو انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی جنگی طیارہ گرنے کے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ متاثرہ علاقے کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا ہے، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور حادثے کے محرکات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے مزید فضائی مظاہرہ عارضی طور پر معطل کرکے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تیجس بھارتی ساختہ لڑاکا طیارہ ہے، جس کی پہلی آزمائشی پرواز 2001 میں کی گئی تھی۔ دو سال سے بھی کم عرصے میں تیجس کا یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں بھی تیجس لڑاکا طیارہ بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جیسلمیر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس تازہ حادثے نے طیارے کی کارکردگی، حفاظتی معیار اور ڈیزائن پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *