پاکستان قازقستان تعلقات میں نیا باب، دونوں ممالک کے درمیان بڑے معاہدے، مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان قازقستان تعلقات میں نیا باب، دونوں ممالک کے درمیان بڑے معاہدے، مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان اور قازقستان کے درمیان دو طرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلے کی اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکایووف نے شرکت کی۔

بدھ کو ہونے والی اس تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے قازق صدر کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور دیرپا تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی قازقستان کے صدر کو شاندار فضائی سلامی

تقریب کے دوران پاکستان اور قازقستان کے درمیان متعدد شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں کان کنی، پیٹرولیم، میری ٹائم افیئرز، اقوام متحدہ کے امن دستوں میں تعاون، کسٹمز، قیدیوں کے تبادلے اور ٹرانزٹ ٹریڈ شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے گئے، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے پاکستان کو قازقستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں قازقستان کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کو اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے۔

بدھ کو صدر قاسم جومارت توکایووف کے سرکاری دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں ان کا باضابطہ استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مہمان صدر کا پرتپاک خیر مقدم کیا، دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ اور وفد سطح کی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

مزید پڑھیں:جیفری ایپسٹین فائلز میں بل گیٹس کا نام، میلنڈا فرنچ گیٹس کا خاموشی توڑتے ہوئے جذباتی انکشاف

یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے متعلق حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں قازقستان کے وزیر تجارت و انضمام ارمان شقالیف سے ملاقات کی تھی، جس میں اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ریلوے، سڑک اور کثیر الجہتی رابطے پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ قازق فریق نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو یورپ سے جوڑنے کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا خاکہ پیش کیا، جن سے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں تقریباً 5 ارب ڈالر تک اضافہ متوقع ہے۔

دونوں ممالک نے زراعت، خوراک کی پروسیسنگ، فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، کھیلوں کی اشیاء، چمڑے کی مصنوعات، کان کنی، معدنیات، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ قازقستان نے مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی جبکہ پاکستان نے سرمایہ کاری سہولت کے فریم ورک کے تحت قازق سرمایہ کاروں کو مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

دونوں وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کاروبار سے کاروبار روابط کو فروغ دینے، تجارتی وفود کے تبادلے اور مشترکہ نمائشوں کے انعقاد سے دو طرفہ تجارتی شراکت داری کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک فریم ورک دستاویز تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق قازق صدر کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل ہے بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان علاقائی انضمام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

Related Articles