وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلوے کے امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ادارے کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں ریلوے کی اراضی اور دیگر قیمتی اثاثوں کے بہتر اور منافع بخش استعمال کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے ریلوے کو طویل مدت میں خاطر خواہ مالی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کسی بھی مضبوط معیشت میں ریلوے ٹرانسپورٹ کا بنیادی ستون ہوتی ہے اور پاکستان ریلوے کو اسی معیار تک پہنچانے کے لیے موجودہ اقدامات نہایت قابلِ تحسین ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، شفاف انتظامیہ اور بہتر سہولیات ہی ریلوے کے استحکام کا راستہ ہیں اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریلوے میں ڈیجیٹل اصلاحات تیزی سے جاری ہیں۔
رابطہ پلیٹ فارم کے سات ڈیجیٹل پورٹلز فعال ہو چکے ہیں اور چھپن ٹرینوں کو اس نظام میں منتقل کردیا گیا ہے ملک کے چھیانوے ریلوے اسٹیشن مکمل طور پر ڈیجیٹائز ہو چکے ہیں جبکہ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں مفت وائی فائی سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید اڑتالیس اسٹیشنوں پر یہ سہولت دسمبر تک مہیا کر دی جائے گی۔
فریٹ کی آن لائن بکنگ کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ کراچی سٹی اسٹیشن پر ڈیجیٹل ویئنگ برج کا پائلٹ پراجیکٹ بھی کامیابی سے چل رہا ہے جسے جلد دیگر اہم اسٹیشنوں تک توسیع دی جائے گی۔
راولپنڈی اسٹیشن پر جدید اے آئی سے لیس 148 سرویلنس کیمروں کی تنصیب، اسٹیشنوں پر اے ٹی ایمز، معیاری ویٹنگ ایریاز، صفائی کے بہتر انتظام اور انفارمیشن ڈیسک کے قیام پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ابھی تک چار ٹرینیں آؤٹ سورس کی جا چکی ہیں جبکہ مزید گیارہ ٹرینوں کے لیے عمل جاری ہے، جس سے ساڑھے آٹھ ارب روپے اضافی ریونیو متوقع ہے۔
علاوہ ازیں چالیس لگیج وینز کی آؤٹ سورسنگ سے 820 ملین روپے اور دو کارگو ایکسپریس ٹرینوں سے 6.3 ارب روپے کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ جامع اصلاحات نہ صرف ریلوے کے مالی خسارے میں کمی لائیں گی بلکہ اسے ایک جدید، محفوظ اور منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔