بارش کی کمی نے نہ صرف فصلوں کی پیداوار متاثر کی بلکہ مویشیوں کے چرائے جانے والے علاقوں میں بھی خشک سالی کا سلسلہ جاری رہا۔ کھیتوں میں پانی کی کمی کے باعث زمین کی زرخیزی متاثر ہوئی اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہوئی۔ کئی علاقوں میں پانی کی قلت کے باعث کسانوں کو اضافی مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ آبپاشی کے نظام کی ناکافی کارکردگی نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
اس کے علاوہ بارشوں کے غیر متوازن اور کم ہونے سے صوبے میں قدرتی ماحولیاتی توازن بھی متاثر ہوا۔ زمین کی نمی نہ ہونے کی وجہ سے خشک ہواؤں اور گرد و غبار کے طوفان بھی بڑھے، جس سے انسانی صحت اور روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ گزشتہ سال کی یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بلوچستان میں بارشوں کا باقاعدہ اور متوازن ہونا زرعی اور معاشی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔