خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرنے والے 2400 سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے لیے متعلقہ محکموں کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق دہشت گردوں کی مبینہ معاونت میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں موجود مشتبہ ملازمین کا مکمل ڈیٹا مرتب کریں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جمع کیے گئے ڈیٹا کو آن لائن سافٹ ویئر پر اپ لوڈ کیا جائے تاکہ مشتبہ افراد کا ریکارڈ مرکزی سطح پر محفوظ اور مانیٹر کیا جاسکے۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کی معاونت میں مبینہ طور پر ملوث دو ہزار سے زائد افراد کی شناخت کرکے انہیں باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔ ہدایات کے مطابق شناخت ہونے والوں میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ ٹھیکہ داروں اور دیگر متعلقہ افراد کو بھی شامل کیا جائے گا۔
دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ مشتبہ افراد کے نام شیڈول فور میں شامل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔