نیتن یاہو نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کردیا

نیتن یاہو نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کردیا

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزد کر دیا ہے  اور ان کی عالمی سطح پر قیامِ امن کی کوششوں کو سراہا ہے۔ نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک عشائیے کے دوران نوبل کمیٹی کو بھیجا گیا خط انہیں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پانچ عالمی تنازعات کو میں نے روکا ، دنیا کو تباہی سے بچایا ،نوبل انعام کیلئے بہترین امیدوار ہوں،ٹرمپ

نیتن یاہو نے امریکی صدر کے بین الاقوامی سفارتی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت بھی دنیا کے ایک ملک، ایک خطے کے بعد دوسرے خط اور ملک میں امن قائم کر رہے ہیں ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو طویل عرصے سے عالمی سطح پر اپنی سفارتی خدمات کے اعتراف کے خواہشمند رہے ہیں، اس سے قبل بھی اپنے حامیوں اور ہم خیال قانون سازوں کی جانب سے کئی بار نوبل انعام کے لیے نامزد ہو چکے ہیں۔ تاہم وہ بارہا اس بات پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں کہ نارویجین نوبل کمیٹی نے انہیں اب تک انعام سے محروم رکھا ہے۔

ریپبلکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو کئی اہم تنازعات میں ثالثی کرنے والا کردار قرار دیا ہے، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، سربیا اور کوسووو کے درمیان مذاکرات اور مصر و ایتھوپیا کے درمیان ڈیم تنازع میں ثالثی شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہام معاہدوں میں اپنے کردار کو بھی اجاگر کیا، جن کے تحت اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔

مزید پڑھیں:دو جوہری ممالک میں تنازعے کے دوران امریکی صدر کا کردار مثبت رہا ہے،اس لئے انہیں 2026 کا نوبل انعام برائے امن دیا جائے،شاہد میتلا

سابق صدر نے انتخابی مہم کے دوران خود کو ’امن قائم کرنے والا‘ قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنی مذاکراتی صلاحیتوں کے ذریعے یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کو جلد ختم کر دیں گے۔ تاہم ان کی صدارت کے 5 ماہ گزرنے کے باوجود دونوں تنازعات بدستور جاری ہیں، جس سے ان کے امن قائم کرنے کے دعوؤں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے کی گئی نامزدگی عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے، جہاں ان کے حامی انہیں جرات مند ثالث سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے، وہ اسرائیل جیسے جارح ملک کی حمایت بھی کر رہا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ان کی ایسی پالیسیاں بعض اوقات کشیدگی کو مزید ہوا دیتی ہیں۔

نوبل امن انعام ہر سال نارویجین نوبل کمیٹی کی جانب سے ان افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جو عالمی سطح پر امن اور تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی نامزدگی پر کمیٹی کیا فیصلہ کرے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن نیتن یاہو کی حمایت نے ان کی عالمی اہمیت کو ایک نیا رخ ضرور دیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *