اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزد کر دیا ہے اور ان کی عالمی سطح پر قیامِ امن کی کوششوں کو سراہا ہے۔ نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک عشائیے کے دوران نوبل کمیٹی کو بھیجا گیا خط انہیں پیش کیا۔
نیتن یاہو نے امریکی صدر کے بین الاقوامی سفارتی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت بھی دنیا کے ایک ملک، ایک خطے کے بعد دوسرے خط اور ملک میں امن قائم کر رہے ہیں ۔
President Trump is “forging peace as we speak, in one country and one region after the other. So, I want to present to you, Mr. President, the letter I sent to the Nobel Prize committee. It’s nominating you for the peace prize, which is well-deserved.” –Israeli PM @Netanyahu 🇺🇸🇮🇱 pic.twitter.com/ZZfUEcfOPd
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو طویل عرصے سے عالمی سطح پر اپنی سفارتی خدمات کے اعتراف کے خواہشمند رہے ہیں، اس سے قبل بھی اپنے حامیوں اور ہم خیال قانون سازوں کی جانب سے کئی بار نوبل انعام کے لیے نامزد ہو چکے ہیں۔ تاہم وہ بارہا اس بات پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں کہ نارویجین نوبل کمیٹی نے انہیں اب تک انعام سے محروم رکھا ہے۔
ریپبلکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو کئی اہم تنازعات میں ثالثی کرنے والا کردار قرار دیا ہے، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، سربیا اور کوسووو کے درمیان مذاکرات اور مصر و ایتھوپیا کے درمیان ڈیم تنازع میں ثالثی شامل ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہام معاہدوں میں اپنے کردار کو بھی اجاگر کیا، جن کے تحت اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔
سابق صدر نے انتخابی مہم کے دوران خود کو ’امن قائم کرنے والا‘ قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنی مذاکراتی صلاحیتوں کے ذریعے یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کو جلد ختم کر دیں گے۔ تاہم ان کی صدارت کے 5 ماہ گزرنے کے باوجود دونوں تنازعات بدستور جاری ہیں، جس سے ان کے امن قائم کرنے کے دعوؤں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے کی گئی نامزدگی عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے، جہاں ان کے حامی انہیں جرات مند ثالث سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے، وہ اسرائیل جیسے جارح ملک کی حمایت بھی کر رہا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ان کی ایسی پالیسیاں بعض اوقات کشیدگی کو مزید ہوا دیتی ہیں۔
نوبل امن انعام ہر سال نارویجین نوبل کمیٹی کی جانب سے ان افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جو عالمی سطح پر امن اور تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی نامزدگی پر کمیٹی کیا فیصلہ کرے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن نیتن یاہو کی حمایت نے ان کی عالمی اہمیت کو ایک نیا رخ ضرور دیا ہے۔