پاکستان کی فضائی تاریخ کے عظیم جانباز اور 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے ہیرو سیسل چودھری کی چودھویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں ان کی خدمات اور بے مثال جرأت کو یاد کیا جا رہا ہے۔
سیسل چودھری جن کا اصل نام فاؤسٹن ایلمر چودھری تھا 27 اگست 1941ء کو پیدا ہوئے، انہوں نے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کر کے اپنے غیر معمولی عزم، مہارت اور بہادری سے خود کو ایک نمایاں مقام پر فائز کیا۔1965ء کی جنگ میں انہوں نے کئی اہم فضائی معرکوں میں حصہ لیا اور دشمن کے تین طیارے مار گرانے کا کارنامہ انجام دیا، جس نے انہیں قومی سطح پر ایک ہیرو بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں :پاک فضائیہ کی “گولڈن ایگل” مشق کامیابی سے مکمل، جدید دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ
ایک اہم معرکے کے دوران ان کے طیارے میں ایندھن انتہائی کم رہ گیا اور سرگودھا ایئر بیس تک واپسی ممکن نہ رہی۔ تاہم انہوں نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاز کو بلند ترین سطح تک لے جا کر گلائیڈ کرتے ہوئے محفوظ لینڈنگ کی۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس میں کسی پاکستانی پائلٹ نے جنگی طیارے کو اس انداز میں محفوظ اتارا۔ اس بہادری پر انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔1971ء کی جنگ کے دوران بھی سیسل چودھری نے بے مثال جرات دکھائی۔
ایک مشن کے دوران ان کے طیارے میں آگ لگ گئی جس کے بعد انہوں نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی اور بارودی سرنگوں والے علاقے میں اترے۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ ہسپتال سے واپس اپنے بیس پہنچے اور متعدد مشنز میں حصہ لیتے رہے۔ ان خدمات پر انہیں ستارہ بسالت سے بھی نوازا گیا۔بعد ازاں انہوں نے پاک فضائیہ میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور بیرون ملک تعینات رہ کر بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے اور اپنی زندگی قوم کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔سیسل چودھری تیرہ اپریل دو ہزار بارہ کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔ان کی بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی داستانیں آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آج ان کی برسی پر قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے اور ان کی خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔