امریکہ ایران ملاقات اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا،جوہری پروگرام ترک نہ کرنے کی پوزیشن بڑی رکاوٹ بنی رہی، ٹرمپ

امریکہ ایران ملاقات اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا،جوہری پروگرام ترک نہ کرنے کی پوزیشن بڑی رکاوٹ بنی رہی، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹروتھ پر کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے باوجود سب سے اہم معاملہ یعنی جوہری پروگرام پر اتفاق نہ ہو نا رکاوٹ بنا،انہوں نے کہا کہ امریکہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل اور نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات مجموعی طور پر بہتر رہے اور کئی نکات پر اتفاق ہوا، تاہم جوہری معاملے پر پیش رفت نہ ہونا بنیادی رکاوٹ بن گیا۔امریکی صدر نے کہا کہ  امریکی بحریہ، جسے انہوں نے دنیا کی بہترین بحریہ قرار دیا، اب ہر اس جہاز کو روکنے کی کارروائی کرے گی جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے جہاں تمام جہازوں کو آزادانہ آمد و رفت کی اجازت ہو، مگر ان کے بقول ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سمندر میں کہیں بارودی سرنگیں موجود ہو سکتی ہیں، جس کے باعث غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے  کہا  کہ ایران اس صورتحال کو عالمی سطح پر دباؤ اور مالی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جسے انہوں نے “عالمی بھتہ خوری” قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور دیگر ممالک اس قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکہ ایران مذاکرات خوش آئند ، فریقین سنہری موقع سے فائدہ اُٹھائیں، اقوام متحدہ

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو روکا جائے جو ایران کو کسی قسم کی ادائیگی کرتا ہے، اور ایسے کسی جہاز کو محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کرنے کا عمل شروع کریں گی اور اگر کسی ایرانی جانب سے حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران اس صورتحال کے خاتمے کا طریقہ بخوبی جانتا ہے، تاہم اس کی موجودہ پالیسیوں نے اس کے اپنے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں مذاکرات کی مکمل بریفنگ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے دی گئی۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ مذاکرات صبح کے وقت شروع ہوئے اور تقریباً بیس گھنٹے تک جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی امور پر اتفاق ہوا، مگر ایران کی جانب سے جوہری پروگرام ترک نہ کرنے کی پوزیشن سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔ ان کے بقول امریکی نمائندوں کے ایران کے نمائندوں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری کے ساتھ روابط خوشگوار رہے، مگر بنیادی معاملے پر سخت مؤقف برقرار رہا۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ اس مؤقف پر قائم ہے۔

editor

Related Articles