ایران کے میزائل حملوں کا خوف، اسرائیلی قیادت کا تل ابیب خالی کرنے کا منصوبہ، یونانی جزائر پر منتقل ہونے کی تجویز زیر غور

ایران کے میزائل حملوں کا خوف، اسرائیلی قیادت کا تل ابیب خالی کرنے کا منصوبہ، یونانی جزائر پر منتقل ہونے کی تجویز زیر غور

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے ممکنہ بیلسٹک میزائل حملوں کے خدشات نے اسرائیل کے سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

 حالیہ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قیادت اب ہنگامی حالات میں متبادل محفوظ مقامات کی تلاش پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس میں بیرونِ ملک منتقلی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:تل ابیب میں کوؤں کے پراسرار غول، سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں، ماہرین نے  بھی رائے دے دی

ترک میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی جماعت ‘بلیو اینڈ وائٹ’ سے وابستہ ایک سیاست دان ایوری اسٹینر نے ایک غیر معمولی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کے تحت یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خریدنے یا طویل مدتی لیز پر حاصل کرنے کی بات کی گئی ہے، تاکہ انہیں یہودی آبادی کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل کیا جا سکے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک ایسے متبادل محفوظ نظام کی تشکیل ہے، جو اسرائیل کے موجودہ دفاعی نظام ’آئرن ڈوم ‘ کے ساتھ ساتھ کام کر سکے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ ہوتا ہے تو شہریوں اور اہم شخصیات کو فوری طور پر ان جزائر پر منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں پہلے سے بنیادی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات موجود ہوں گے۔

یاد رہے کہ 2012 میں یونان نے معاشی بحران کے دوران اپنے متعدد غیر آباد جزائر کو طویل مدتی لیز پر دینے کی پیشکش کی تھی۔ اب اسی پیشکش کو اس نئے منصوبے کے تناظر میں دوبارہ زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگرچہ یہ تجویز بظاہر غیر معمولی اور پیچیدہ ہے، لیکن خطے میں سیکیورٹی خدشات کی شدت نے اسے قابلِ غور بنا دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہیں، اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، پراکسی تنازعات، اور بیانات کی جنگ نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی حملے کے بعد ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے ، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت کے اس قسم کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ بدترین ممکنہ حالات کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ اس طرح کی تجاویز عوام میں خوف و ہراس کو بڑھا سکتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو مزید ہوا دے سکتی ہیں۔

اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی ملک کی قیادت اپنے شہریوں کے لیے بیرونِ ملک مستقل یا عارضی محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *