خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمے میں عدالت نے ان کےناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن اور من گھڑت الزامات لگائے، جس سے اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس کیس کے بعد انہیں عدالت سے عبوری ضمانت حاصل تھی۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران مسلسل عدالتی طلبی کے باوجود سہیل آفریدی عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے۔ اس پر اسلام آباد کی عدالت میں سماعت کے دوران صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ان کی غیر حاضری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
سینئر سول جج عباس شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران ملزم کی عدم پیشی پر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلسل غیر حاضری عدالتی کارروائی کو متاثر کر رہی ہے، لہٰذا قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
ناقابلِ ضمانت وارنٹ کا اجرا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت ملزم کی غیر حاضری کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، اور آئندہ مراحل میں گرفتاری یا سخت قانونی اقدامات کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔