گیس کی فراہمی سے متعلق سوئی سدرن کا بڑا فیصلہ

گیس کی فراہمی سے متعلق سوئی سدرن کا بڑا فیصلہ

سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس سی جی) نے گیس پریشر میں بہتری اور سسٹم کے استحکام کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت تمام صنعتی صارفین بشمول کیپٹو پاور پلانٹس کو اتوار کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک گیس فراہم نہیں کی جائے گی، جس سے صوبے بھر میں صنعتی پیداواری عمل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق، یہ اقدام گیس پریشر کو بہتر بنانے اور لائن پیک (پائپ لائنوں میں گیس کا ذخیرہ) کو مستحکم کرنے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی و تجارتی تعلقات کے نئے مرحلے کا آغاز

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تمام صارفین کو گیس کی بلاتعطل فراہمی کے لیے پرعزم ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں تمام شعبوں کے درمیان گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ضروری ہو گیا تھا۔ اسی ضرورت کے تحت صنعتوں پر 24 گھنٹے کی بندش کا اطلاق کیا گیا ہے تاکہ سسٹم میں گیس کا دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے کی اس اچانک بندش سے برآمدی آرڈرز اور مقامی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر کیپٹو پاور پلانٹس پر انحصار کرنے والے یونٹس کو بجلی کی پیداوار میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب، کمپنی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس عارضی معطلی سے گھریلو صارفین کو گیس پریشر میں ریلیف ملے گا۔ 11 اپریل 2026 کو جاری ہونے والے اس فیصلے پر پیر کی صبح 8 بجے کے بعد نظرِ ثانی کی جائے گی اور گیس کی بحالی کا عمل شروع ہوگا۔

پاکستان میں موسم کی تبدیلی اور گیس کی طلب و رسد میں فرق کے باعث اکثر صنعتی شعبے کو لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم پر بوجھ بڑھنے سے اکثر ‘لائن پیک’ کم ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر گھریلو صارفین کے چولہوں پر پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں:گیس سلنڈر دیں اور پورا مہینہ مفت بریانی کھائیں: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے ریسٹورنٹ کو انوکھی آفر پر مجبور کر دیا

حکومت کی ترجیحی فہرست میں گھریلو صارفین پہلے نمبر پر ہیں، اس لیے سسٹم کو کریش ہونے سے بچانے کے لیے انڈسٹری کا ‘گیس ناغہ’ کیا جاتا ہے۔ حالیہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ صنعتی زون میں پریشر بڑھا کر پیر سے کام کا آغاز بہتر طریقے سے ہو سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *