عمران خان کی عینک کے ساتھ 70 فیصد درست، دوسری کا وژن 6/6 ہے، وزیر قانون

عمران خان کی عینک کے ساتھ 70 فیصد درست، دوسری کا وژن 6/6 ہے، وزیر قانون

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ  عمران خان کی صحت کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، ان کی ایک آنکھ عینک کے ساتھ 70 فیصد درست کام کر رہی ہے جبکہ دوسری آنکھ کا وژن 6/6 ہے۔ عمران خان کی صحت کے بارے میں اپوزیشن اراکین اور ان کے معالجین کو تفصیلی بریفنگ دی گئی تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کم ہو گئی، نئی رپورٹ میں انکشاف

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت کسی بھی زیر حراست فرد کے بنیادی انسانی اور طبی حقوق کے تحفظ کی پابند ہے اور عمران خان کو بھی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس شفاف انداز میں شیئر کی گئی ہیں اور اگر مزید کسی وضاحت کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی فراہم کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا سے متعلق سخت مؤقف

وزیر قانون نے خبردار کیا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت آئین سے ماورا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو وفاقی حکومت آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرنے پر مجبور ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان ریاستی اداروں اور صوبوں کے اختیارات کا واضح تعین کرتا ہے اور کسی کو بھی اس سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان 4 اکائیوں پر مشتمل ہے اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بھی قومی وحدت کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول، قومی یکجہتی اور آئینی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

معیشت اور سیاسی استحکام

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حالیہ معاشی اشاریے بہتری کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر یقینی سیاسی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اختلافات کو پارلیمنٹ کے اندر حل کیا جائے اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔

قومی اتحاد پر زور

وزیر قانون نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو بہتری کی طرف لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کشیدگی کم کر کے ہی پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم اور عالمی سطح پر باوقار مقام دلایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر قانون کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے اور مختلف معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں سیاسی بیانیہ اور باہمی روابط ملکی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *