رمضان ریلیف پیکج سے رقم حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار تبدیل،نیا طریقہ جانیے

رمضان ریلیف پیکج سے رقم حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار تبدیل،نیا طریقہ جانیے

حکومت پاکستان نے رمضان المبارک 2026 کے موقع پر شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وزیر اعظم رمضان ریلیف پیکج کی اہلیت جانچنے کا طریقہ کار مزید آسان اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستحق افراد تک شفاف اور بروقت امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق اس جدید نظام کی تیاری وزارت آئی ٹی وٹیلی کام کی قیادت میں کی گئی، جبکہ تکنیکی معاونت نیشنل آئی ٹی بورڈ نے فراہم کی۔ حکام کے مطابق ایک خصوصی آن لائن پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے اپنی اہلیت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ درخواست دہندگان مخصوص ویب پورٹل پر جا کر یا “پاک ایپ” کے ذریعے وزیر اعظم رمضان ریلیف پیکج 2026 میں شمولیت کے لیے اپنی بنیادی معلومات درج کریں گے، جس کے بعد نظام فوری طور پر ان کی اہلیت کی جانچ کر کے نتیجہ فراہم کرے گا۔ اس ڈیجیٹل نظام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پورا عمل چند منٹوں میں مکمل ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا رمضان میں شہریوں کو دوکانداروں کا معاشی بائیکاٹ کرنے کا مشورہ،وجہ بھی بتا دی

حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن سہولت متعارف کروانے سے شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے، طویل قطاروں میں انتظار کرنے اور کاغذی کارروائی کی پیچیدگیوں سے نجات ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نظام شفافیت کو فروغ دے گا اور مستحق افراد کی درست نشاندہی میں مددگار ثابت ہوگا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کو اپنی درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ اہلیت کی تصدیق بروقت اور صحیح انداز میں ممکن ہو سکے۔ غلط یا نامکمل معلومات کی صورت میں درخواست مسترد بھی کی جا سکتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق رمضان ریلیف پیکج کا مقصد مہنگائی کے دباؤ میں گھرے کم آمدنی والے طبقات کو سہارا دینا اور مقدس مہینے میں بنیادی اشیائے ضروریہ تک ان کی رسائی آسان بنانا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے امدادی عمل کو شفاف، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *